.
عالمی سطح پر بے حسی کا مظاہرہ باعث تکلیف : صدر مادورو
کراکس: اگر بائبل کو کسی دوسرے ملک میں جلایا جائے تو ہم عیسائی کیسا محسوس کریں گے ؟ ونیزویلا کے صدرِ مملکت نکولا مادورو نے یورپی سربراہان اور بعض میڈیا اداروں کے سویڈن اور ڈنمارک میں قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کے واقعات پر بے حسی کا مظاہرہ کرنے کی مذمت کی ہے ۔المیادین چینل پر نشر پروگرام ’ود مادورو اینڈ مور‘ میں حصہ لیتے ہوئے وینزویلا کے لیڈر نے کہا کہ جو لوگ یورپ میں مقدس کتابوں کو جلانے کی اجازت دیتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں وہ بالواسطہ اس جرم میں ملوث ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کو جلاتے ہوئے دیکھنے والے دنیا بھر کے مسلم عوام کے درد کو وہ گہرائیوں سے محسوس کرتے ہیں۔ اس معاملے کی کوریج نہ کرنے پر میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے مادورو نے کہا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم اور یورپ میں قرآن کو جلانے والے انتہائی دائیں بازو اور نسل پرست حلقوںکی سرگرمیوں کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔مادورو نے کہا کہ میں ایک عیسائی کے طور پر اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر بائبل کو کسی دوسرے ملک میں جلایا جائے تو ہم عیسائی کیسا محسوس کریں گے ؟
اگر کسی نے ایسا کیا تو ہمارے دلوں کو دھچکہ لگے گا اور یہ بہت بڑی توہین ہوگی۔زیادہ تر مسلم ممالک نے حالیہ مہینوں میں ڈنمارک اور سویڈن میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی مذمت کی ہے اور کچھ نے سویڈش اور ڈنمارک کے سفیروں کو احتجاجی مراسلہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔اختتام الہفتہ سویڈن کے وزیر خارجہ توبیاس بلسٹروم نے مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات پر خصوصی توجہ دینے کا عندیہ دیا تھا۔