ٹاملناڈو: کی ڈی ایم کے حکومت نے ایک بے مثال قدم اٹھاتے ہوئے 10 بلوں کو گورنر اور صدر جمہوریہ کی رسمی رضامندی کے بغیر ایکٹ کی شکل میں نوٹیفائی کر دیا ہے۔ یہ قدم سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں ان بلوں کو خود بخود منظور شدہ تصور کیا گیا تھا۔ ہندوستان میں یہ پہلی بار ہے جب کسی ریاست نے بغیر گورنر یا صدر جمہوریہ کے دستخط بل کو نافذ کیا ہے۔ اسے ریاستی حکومت کی خود مختاری اور وفاقی ڈھانچے کی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سپریم کورٹ نے 8 اپریل 2025 کو ٹاملناڈو حکومت بمقابلہ ٹاملناڈو کے گورنر معاملے میں ایک اہم فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے گورنر آر این روی کے ذریعہ 10 بلوں کو صدر جمہوریہ کو غور و خوض کیلئے بھیجنے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ گورنر کے ذریعہ دوبارہ منظور شدہ بلوں کو صدر جمہوریہ کے پاس بھیجنا آئین کے آرٹیکل 200 کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ اسمبلی سے 18 نومبر 2023 کو دوبارہ منظور شدہ بلوں کو اسی دن سے گورنر سے منظور شدہ مان لیا جائے گا۔