ٹاملناڈو میں وجئے کی حلف برداری تقریب ملتوی

,

   

تشکیل حکومت کیلئے وجئے کی حمایت کرنے کانگریس کا رسمی اعلان ، تجسس برقرار
الیکشن میں کامیاب بڑی پارٹی کے سربراہ کو واپس لوٹانے پر کپل سبل برہم، گورنر کو بی جے پی کا ایجنٹ قرار دیا

چینائی ۔7؍مئی ( ایجنسیز) ٹاملناڈو میں 7 مئی کو ہونے والی حلف برداری کی تقریب منعقد نہیں ہوسکی کیونکہ یہ اطلاع ہے کہ ٹاملناڈوکے گورنر آر وی ارلیکر نے وجے کی تاملگا ویٹی کزگم کو حکومت بنانے کی دعوت دینے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ ان کے پاس مطلوبہ ارکان کی تعداد نہیں ہے۔ ٹاملناڈو میں گورنر ہاؤس کی سرکاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر نے ٹی وی کے صدر سی جوزف وجے کو ملاقات کیلئے مدعو کیا تھا۔بیان کے مطابق ملاقات کے دوران گورنر نے واضح کیا کہ ٹاملناڈو اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے ضروری اکثریتی حمایت ابھی ثابت نہیں ہو سکی ہے۔ ٹی وی کے نے پہلی بار اسمبلی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے غیر معمولی کارکردگی دکھائی اور 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تاہم اکثریت کیلئے درکار 118 نشستوں سے کچھ سیٹیں کم رہ گئیں۔بعض جماعتوں کی جانب سے حمایت کے اشارے ملے ہیں لیکن ابھی اس پر تجسس برقرار ہے ۔اطلاعات کے مطابق کانگریس نے ڈی ایم کے کے ساتھ اپنی طویل رفاقت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے رسمی طور پر وجئے کی حمایت کا اعلان کردیا ہے ۔دوسری طرف ٹاملناڈو میں نئی حکومت کی تشکیل سے پہلے سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں، جب ریاست کے گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر نے پہلے ٹی وی کے سربراہ وجے کو حکومت سازی کیلئے فوری دعوت دینے سے گریز کیا اور جب وہ ان سے ملاقات کیلئے پہنچے تو عددی طاقت اور مطلوبہ ارکان اسمبلی کی تائید پیش کرنے کو کہا۔ اس معاملے پر سینئر وکیل اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے گورنروں پر آئین کے غلط استعمال کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ بی جے پی کے ایجنٹ کی طرح کام کرتے ہیں۔کپل سبل نے کہا کہ وجے اسمبلی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر بن کر سامنے آئے ہیں، اس لیے انہیں حکومت بنانے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت کا اصول یہی ہے کہ سب سے بڑی جماعت کے قائد کو پہلے حکومت سازی کی دعوت دی جائے اور پھر ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع ملے۔ سبل نے سرکاریا کمیشن کی سفارشات اور آئینی روایتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخاب کے بعد بننے والے اتحاد کو فوری بنیاد پر اکثریت نہیں مانا جا سکتا مگر افسوس کہ ان اصولوں کو سننے والا کوئی نہیں۔دریں اثنا ٹی وی کے سربراہ وجے نے جمعرات کو تمل ناڈو کے گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر سے ملاقات کی اور حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔

ڈی ایم کے، اے آئی اے ڈی ایم حکومت بنانے کی کوشش کریں توتمام 108 TVK ایم ایل اے مستعفی ہو جائیں گے
چینائی ۔7؍مئی ( ایجنسیز ) ٹاملناڈو میں اداکار وجے کی ٹی وی کے نے آج شام انتباہ کیا ہے کہ اگر دونوں دراوڑ پارٹیوں میں سے کسی ایک۔ ایم کے اسٹالن کی ڈی ایم کے یا ای پالانی سوامی کی اے آئی اے ڈی ایم کے نے ٹاملناڈو میں حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرنے کی کوشش کی تو ان کی پارٹی کا ہر ایم ایل اے مستعفی ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کیمپوں میں دو اہم میٹنگوں کے بعد آیا۔ TVK کو اب شبہ ہے کہ دونوں پارٹیاں ریاست میں حکومت بنانے کیلئے گٹھ جوڑ کر رہی ہیں اور ٹی وی کے کو ختم کر رہی ہیں جس نے سب سے زیادہ سیٹیں جیتی ہیں۔