جج کو قتل کی دھمکی دینے والی خاتون گرفتار ، الزامات ثابت ہونے پر ٹرمپ کو 55سال کی قید کا اندیشہ
واشنگٹن : سابق امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کے خلاف صدارتی الیکشن پر اثر انداز ہونے کے کیس کی خاتون جج کو قتل کی دھمکی دینے والی خاتون کو گرفتار کرلیا گیا۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق 43 سالہ خاتون ابیگیل جو شری پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹرمپ کے خلاف 2020 کے صدارتی الیکشن پر اثر انداز ہونے کے کیس سننے والی جج تانیا چٹکن کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خاتون نے مبینہ طور پر 5 اگست کو واشنگٹن ڈی سی کی عدالت میں فون کیا اور امریکی ڈسٹرکٹ جج تانیا چٹکن کے لیے نسل پرستانہ جملے بولتے ہوئے انہیں قتل کرنے کی دھمکی دی۔خاتون نے فون کال میں مبینہ طور پر جج سے کہا کہ آپ ہماری نظروں میں ہیں، ہم آپ کو مارنا چاہتے ہیں۔پراسیکیوٹر کے مطابق خاتون نے جج کو دھمکی دی کہ اگر ٹرمپ 2024 کے الیکشن نہ لڑ سکے تو ہم آپ کو قتل کردیں گے۔اس کے علاوہ خاتون نے مبینہ طور پر کانگریس کی خاتون رکن شیلا جیکسن لی کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دی،جو ٹیکساس کی سیاہ فام ڈیموکریٹ ہیں اور ہیوسٹن کے میئر کے لیے انتخاب لڑ رہی ہیں۔حکام کی جانب سے جب خاتون کی فون کال کو ٹریس کرتے ہوئے گھر پر چھاپا مارا گیا تو خاتون نے جج کو دھمکی آمیز کال کرنے کی تصدیق کی۔جس کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق امریکی صدرٹرمپ پر 2020 کے صدارتی الیکشن پراثرانداز ہونے اور 6 جنوری 2021 کے کیپیٹل ہل حملے کے الزامات پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔سابق صدر ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی کی عدالت میں پیش بھی ہوئے، ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2020کے صدارتی الیکشن کے نتائج آنے کے بعد غیر قانونی طورپر عہدے پر براجمان رہنے کی کوشش کی تھی۔یہ سابق صدر کی گزشتہ چار مہینوں میں تیسری پیشی تھی۔اس موقع پر سابق صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ انہیں جو بائیڈن کی وجہ سے گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بائیڈن اوران کی فیملی کئی ممالک سے کروڑوں ڈالر رشوت لے رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق جج کی جانب سے کیس کی اگلی سماعت 28 اگست کو مقرر کی گئی ہے، مقدمیکی سماعت پہلے صدارتی مباحثے کے 5 روز بعد ہوگی۔اگر سابق صدر ٹرمپ پر الزامات ثابت ہوئے تو انہیں مجموعی طورپر 55 برس قید ہوسکتی ہے۔6 جنوری 2021 کو امریکی صدر ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر دھاوا بول دیا تھا اور سکیورٹی حصار توڑتے ہوئے عمارت کے اندر داخل ہوگئے تھے۔کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی کے دوران 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے،کیپیٹل ہل پر حملے کے الزام میں ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔یہ دھاوا ایسے وقت میں بولا گیا تھا کہ جب کیپیٹل ہل میں موجود کانگریس کی عمارت میں مشترکہ اجلاس ہو رہا تھا اور کانگریس کو نومبر 2020 میں انتخابات جیتنے والے نو منتخب صدر جوبائیڈن کی صدارتی فتح کی توثیق کرنی تھی تاہم ٹرمپ اور ان کے حامیوں کا خیال تھا کہ انتخابات میں ان کی فتح کو شکست میں تبدیل کیا گیا ہے۔