ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایران کا سخت جوابی کارروائی کاعزم

   

تہران: ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے پیر کو امریکی ’دھمکی‘ کے جواب میں کہا ہے کہ ’اگر انہوں نے کوئی شرارت کی تو یقینی طور پر انہیں زبردست کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔‘ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پیر کو کہا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کو بمباری کی دھمکی پر امریکہ نے عمل کیا تو اسے ’زبردست جوابی کارروائی‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران مارچ کے آغاز میں ایرانی قیادت کو بھیجے گئے خط میں مذاکرات کی پیشکش قبول نہیں کرتا تو اسے ’بمباری‘ کا سامنا کرنا ہو گا۔اس خط میں تہران کو فیصلہ کرنے کے لیے دو ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔علی خامنہ ای نے امریکی دھمکی کے جواب میں کہا ہے کہ ’اگر انہوں نے کوئی شرارت کی تو یقینی طور پر انہیں زبردست کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔‘علی خامنہ ای نے امریکی دھمکی کے جواب میں کہا ہے کہ ’اگر انہوں نے کوئی شرارت کی تو یقینی طور پر انہیں زبردست کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔‘امریکی صدر کی اس ’دھمکی‘ کے جواب میں خامنہ ای نے کہا کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی (ایران کے ساتھ) دشمنی ہمیشہ سے رہی ہے۔ وہ ہمیں حملے کی دھمکیاں دیتے ہیں جن پر عمل ہمیں زیادہ ممکن نہیں لگتا، لیکن اگر انہوں نے کوئی شرارت کی تو یقینی طور پر انہیں زبردست کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اور اگر وہ ملک کے اندر ماضی کی طرح کوئی فتنہ برپا کرنے کا سوچ رہے ہیں تو ایرانی عوام خود ان سے نمٹ لیں گے۔‘گذشتہ ہفتے ایران نے امریکہ کے خط کا جواب دیا تھا اور صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کو وضاحت کی کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کرے گا تاہم آیت اللہ خامنہ ای کی ہدایت کے مطابق بالواسطہ بات چیت جاری رکھنے پر تیار ہے۔ اپنے پہلے دور صدارت (2017 سے 2021) میں ٹرمپ نے امریکہ کو اس 2015 کے معاہدے سے یکطرفہ طور پر الگ کر لیا تھا جو ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پایا تھا اور جس کے تحت تہران کی متنازع جوہری سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، بدلے میں ایران کو پابندیوں کے خاتمے کی سہولت دی گئی تھی۔