عوام سے مارپیٹ اور گالی گلوچ سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ ماتحت عملہ کی بدسلوکی پر اعلی عہدیدار خاموش
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : شہر میں ان دنوں ٹریفک پولیس نے بڑے سخت تیور اختیار کرلیے ہیں ۔ سڑکوں پر ٹریفک جام کی انہیں کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی شہریوں کو راحت فراہم کرنے کے اقدامات سے دلچسپی رہ گئی ہے ۔ ٹریفک پولیس صرف چالانات اور چالانات کی وصولی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ ٹریفک پولیس کا کام اب ٹریفک کے بہاؤ کو یقینی بنانا نہیں بلکہ چالانات وصول کرنا رہ گیا ہے ۔ ٹریفک پولیس کے تعلق سے یہ بھی تاثر عام ہوگیا ہے کہ اعلی عہدیدار ماتحت عملہ کو چالان کرنے اور چالان کی رقم وصول کرنے کا ٹارگٹ دے رہے ہیں اور ماتحت عملہ اس ٹارگٹ کو پورا کرنا ہی اپنا فرض اولین سمجھ رہا ہے ۔ ٹریفک کے بہاؤ سے ٹریفک عملہ اب عملا لا تعلق سے ہو کر رہ گیا ہے ۔ شہر حیدرآباد کے کئی اہم چوراہوں پر خود ٹریفک پولیس ہی ٹریفک جام کا سبب بن رہی ہے ۔ ایک طرف بارش اور خستہ حال سڑکوں کے سبب عوام کو مشکلات پیش آر ہی ہیں تو اس پر اب ٹریفک پولیس بھی عوام کو گھیرنے میں لگی ہے ۔ بارش ہو یا سردی ، گرمی ہو یا دھوپ ٹریفک پولیس بدلنے والی نہیں ۔ حالانکہ پولیس کے ذریعہ عوام کو راحت اور دوستانہ تعلقات کو اہمیت دینے کے دعوے کئے جاتے ہیں اور حکومت بھی محکمہ پولیس کو غیر معمولی اہمیت دے رہی ہے ۔ ایسی صورت میں پولیس عوام کو مزید پریشان کررہی ہے ۔ شہر میں اکثر مصروف ترین اوقات اسکولس اور دفاتر کے اوقات میں ٹریفک پولیس کا عملہ اچانک چوراہوں پر نمودار ہوجانا اور چالانات ‘ گاڑیوں کی تلاشی و جرمانوں کی وصولی کیلئے ہاتھوں میں ٹیاپ اور کیمرے لیے مصروف ہوجاتا ہے ۔ انہیں ٹریفک جام کی کوئی پرواہ نہیں ۔ بشیر باغ ، حمایت نگر ، عابڈس ، لکڑی کا پل ، افضل گنج ، مہدی پٹنم ، پنجہ گٹہ و دیگر علاقوں میں عوام کا سڑکوں پر گذرنا مشکل کردیا گیا ہے ۔ ٹریفک پولیس کی ان کارروائیوں کے سبب سماج کی با اثر شخصیات کو شدید تکالیف پیش آرہی ہیں ۔ اسکولس ، کالجس دفاتر اور خانگی شعبوں سے وابستہ جنرل شفٹ ملازمت کرنے والے شہریوں کو ٹریفک پولیس کے اقدامات سے شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ یاد رہے کہ سائبر آباد پولیس کمشنریٹ حدود میں ٹریفک عملہ نے حد کردی میاں پور اور کوکٹ پلی ٹریفک پولیس حدود میں پیش آئے دو علحدہ واقعات میں ٹریفک پولیس عملہ نے عام شہریوں کو تھپڑ رسید کیا اور مبینہ طور پر چالانات کی ادائیگی کے لیے گالی گلوج کی اور انہیں رسوا کیا ۔ اس طرح کے اقدامات اور ٹریفک پولیس کا بے جا رویہ شہریوں کے لیے راحت نہیں بلکہ تکلیف اور ہراسانی کا سبب بن رہے ہیں ۔ اکثر و بیشتر دیکھا جاتا ہے کہ سوشیل میڈیا پر بھی کئی ویڈیوز پیش کئے جاتے ہیں جن میں ٹریفک پولیس عملہ کو عوام کے ساتھ بد زبانی اور گالی گلوچ کرتے دیکھا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ٹریفک پولیس کا عملہ مارپیٹ سے بھی گریز نہیں کرتا ۔ ایسا کرنے کا حالانکہ انہیں کوئی اختیار نہیں ہوتا اور ثبوت کے طور پر سوشیل میڈیا پر ویڈیوز پیش کئے جانے کے باوجود اعلی عہدیدار اس طرح کے عملہ کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں کرتے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ٹریفک عملہ بے لگام ہوگیا ہے ۔ مصروف سڑکوں پر بھی اچانک ہی رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں اور ٹریفک جام کرتے ہوئے چالان وصول کئے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ کار نہ پولیس کے امیج کیلئے بہتر ہے اور نہ ہی عوام کے حق میں ٹھیک کہا جاسکتا ہے ۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ اپنی ساکھ کو مزید متاثر ہونے سے بچاتے ہوئے عوام میں بہترین امیج کے تصور کو بحال کرنے کے اقدامات کو اہمیت دیتے ہوئے حکومت کے مشن کو کامیاب بنائیں ۔۔ ع