ٹمریز کی غیراطمینان بخش کارکردگی پر ارکان اسمبلی کی خاموشی

   

زچگی ، بدفعلی اور سرقہ کی وارداتیں ، وزیر کی پشت پناہی ، عملہ پر دباؤ
حیدرآباد۔10۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی اقلیتی اقامتی اسکولوں میں طلبہ کے تحفظ اور اسکولوں میں ہونے والی چوری کے علاوہ ’ٹمریز‘ کے نام پر جاری ہونے والے فنڈس کے استعمال پر ایوان میں کسی بھی طرح کے سوال نہ اٹھایا جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’ٹمریز‘ کی کارکردگی سے منتخبہ اراکین اسمبلی مطمئن ہیں حالانکہ تلنگانہ اقلیتی اقامتی جونئیر کالج گولکنڈہ میں انٹرمیڈیٹ کی طالبہ کی زچگی اور بچہ کو جنم دینے کے بعد اسے عمارت سے پھینک کر قتل کردیئے جانے کا معاملہ شہر حیدرآباد کی گنجان آبادی میں پیش آیا ہے۔ اسی طرح شہر کے نواحی علاقہ میں ’ٹمریز‘ کے ایک اسکول میں طلبہ کے ساتھ بدفعلی کا واقعہ پیش آنے کے باوجود ٹمریز کے عہدیدار معاملہ کو رفع دفع کرواتے ہوئے ’’ادارہ‘‘ کی ساکھ کے نام پر مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور ان سنگین معاملات پر کسی بھی طرح کی وضاحت پیش کرنے سے گریز کیا جاتا رہا ہے لیکن اگر اسمبلی یا قانون ساز کونسل میں بھی اس طرح کے واقعات پر عہدیداروں اور ذمہ داروں کو جوابدہ بنانے کے بجائے واقعات کو نظرانداز کی پالیسی ’ٹمریز ‘ کے اداروں کو تباہ کرنے کا موجب بن رہی ہے۔تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں اقلیتوں کے مسائل بالخصوص فیس بازادائیگی اسکیم‘ فنڈس کی اجرائی ‘ٹمریز کے حالات اور ان میں ہونے والی تباہ کاریوں کو موضوع بحث بناتے ہوئے صورتحال کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے لیکن ’’ٹمریز‘‘ کے مسائل خاص طور پر ان اسکولو ں میں طلبہ کے تحفظ کے علاوہ ٹمریز میں طلبہ کے نام پر حاصل کی جانے والی اشیاء کی عملہ کی جانب سے چوری کے ثابت ہونے کے باوجود ان کی خدمات کو جاری رکھا جا رہاہے۔ ٹمریز کے اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے عملہ بالخصوص تدریسی عملہ ان کے خلاف ہونے والی کاروائیوں پر بی جے پی اراکین اسمبلی و قائدین سے دباؤ ڈلواتے ہوئے دوبارہ خدمات پر بحال ہونے میں کامیاب ہورہے ہیں جبکہ اقلیتی طلبہ کے لئے قائم کئے گئے ان اقامتی اسکولو ں میں ہونے والی ہنگامہ آرائیوں کے علاوہ قابل اعتراض سرگرمیوں پر مسلم منتخبہ نمائندوں کی خاموشی اقلیتی اقامتی اسکولوں کی تباہی کا سبب بننے لگی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد کے علاوہ ریاست کے بیشتر تمام اضلا ع میں بی آر ایس دور حکومت میں قائم کئے گئے اسکولوں کو ترقی دیتے ہوئے اسے جونیئر کالجس میں تبدیل کرنے کے اقدامات کئے گئے تھے اور چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ان جونیئر کالجس کو ’ڈگری ‘ کالجس کے طور پر ترقی دینے کے اعلان کیا تھا لیکن اس پر عمل آوری اب تک نہیں ہوپائی ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ 3
’ٹمریز ‘ کے معاملات کو ریاستی وزیر اقلیتی بہبود اور محکمہ اقلیتی بہبود کی مکمل پشت پناہی کے اور عملہ پر دباؤ ڈالتے ہوئے اندرونی معاملات کو باہر نکالنے پر برخواست کرنے کی دھمکیوں کے نتیجہ میں صورتحال انتہائی ابتر ہوچکی ہے حالانکہ مختلف گوشوں کی جانب سے ’ٹمریز‘ کو مختص وجاری کئے گئے بجٹ کی ’’سوشل آڈٹ‘‘ کا مسلسل مطالبہ کیا جا رہاہے تاکہ بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کو روکنے کے اقدامات کئے جاسکیں۔3