ٹول گیٹس کے نام پر آر ٹی سی ایکسپریس بسوں کے ٹکٹس میں 10 روپئے کا اضافہ

   

مسافرین برہم، سیٹوں میں اضافہ کے بجائے ٹکٹ کی قیمتوں میں اضافہ کا الزام
حیدرآباد۔ 19 جون (سیاست نیوز) نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا (NHAI) کی جانب سے ٹول ٹیکس میں اضافہ کرنے کے بعد آر ٹی سی مینجمنٹ کی جانب سے مسافرین پر زائد مالی بوجھ عائد کیا گیا ہے۔ پہلے سے ہی ریاست میں جن روٹس پر ٹول گیٹس موجود ہیں، اُن روٹس پر ایکسپریس بسوں میں مسافرین سے ٹول گیٹ کے نام پر 10 روپئے زائد وصول کئے جارہے ہیں۔ تازہ طور پر آر ٹی انتظامیہ نے ریشنلائزیشن کے نام پر ریاست میں تمام اقسام کی ایکسپریس بس سرویسیس میں ٹکٹ کی قیمتوں میں 10 روپئے کا اضافہ کردیا ہے۔ نظام سے حیدرآباد پہنچنے کیلئے 3 ٹول گیٹس سے گذرنا پڑتا ہے جس کے پیش نظر ایک مسافر سے 30 روپئے زائد وصول کررہی ہے۔ ماضی میں حیدرآباد سے نظام آباد جانے کیلئے اے سی بس کا ٹکٹ 430 روپئے تھا جس میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 460 روپئے کردیا گیا۔ ایکسپریس، الیکٹرک بسوں میں ٹکٹ کی قیمت 360 روپئے تھی جس کو بڑھاکر 390 روپئے کردیا گیا، اسی طرح حیدرآباد سے راما گنڈم جانے والی روٹ پر 3 ٹول گیٹس ہیں، اس روٹ پر بھی مسافرین سے 30 روپئے زائد وصول کئے جارہے ہیں۔ آر ٹی سی میں ریشنلائزیشن کے نام پر تمام ایکسپریس سرویسیس میں موجودہ ٹکٹ کے ساتھ 10 روپئے زائد وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کریم نگر سے پیداپلی تک ایکسپریس بس کا ٹکٹ 60 روپئے تھا، اس میں 10 روپئے کا اضافہ کرتے ہوئے اب 70 روپئے وصول کئے جارہے ہیں۔ کریم نگر تا منتھنی 100 روپئے کے ٹکٹ کو 110 کردیا گیا ہے۔ ماضی میں چلر کے مسائل کے نام پر ٹکٹ کی قیمتوں کو راؤنڈ فیگر کرتے ہوئے بس ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا۔ کورونا کے دوران تین مرتبہ 5 روپئے تک اضافہ کیا گیا۔ الیکٹرک بسوں میں گرین ٹیکس کے نام سے 10 روپئے زیادہ وصول کئے جارہے ہیں۔ اس تناظر میں آر ٹی سی کے تازہ فیصلے کے بعد مسافرین کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ عوام نے کہا کہ بیٹھنے کیلئے ناکافی سیٹیں ہیں۔ سیٹوں میں اضافہ کے بجائے ٹکٹ کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ خواتین کو مفت سفر کی سہولت فراہم کرتے ہوئے اس کی پابجائی کرنے کیلئے مرد مسافرین سے زیادہ قیمت کا ٹکٹ لیا جارہا ہے۔2