یادگیر (کرناٹک) : ریاست کرناٹک کے یادگیر شہر میں 18ویں صدی کے میسور کے حکمران ٹیپو سلطان یا بی جے پی کی مشہور شخصیت ویر ساورکرکے نام پر ایک جنکشن کا نام رکھنے پر تنازعہ کے بعد کشیدگی پھیل گئی۔ اگرچہ حکام حرکت میں آئے اور حالات کو قابو میں لایا، لیکن اس معاملے نے فرقہ وارانہ رخ اختیار کرلیا ہے جس سے امن و امان کی صورتحال کو خطرہ ہے۔یادگیر میونسپلٹی بی جے پی کے زیر انتظام ہے۔ ہٹی کونی کراس کے قریب ٹیپو سرکل کو ہندو ویر ساورکر کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ٹیپو سلطان کے مداحوں نے، جن میں زیادہ تر مسلم کمیونٹی سے ہے، اعلان کیا ہے کہ وہ کسی قیمت پر ایسا نہیں ہونے دیں گے۔حکام نے شیواجی سینا کے ریاستی صدر پرشورام شیگورکر اور ان کے پیروکاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ شمالی کرناٹک ٹیپو سلطان سمیوکت رنگ کے صدر عبدالکریم کے خلاف بھی پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے اور ذرائع نے کہا ہے کہ وہ مفرور ہیں۔ ٹیپو کے پرستاروں نے کہا ہے کہ سٹی میونسپلٹی نے 2010 میں سرکل کا نام ٹیپو سلطان کے نام پر رکھنے کی اجازت دی تھی۔اس سے پہلے اسے مولانا عبدالکلام سرکل کہا جاتا تھا۔ تاہم ہندوکارکنوں کا دعویٰ ہے کہ میونسپلٹی کی اجازت کے بغیر اس حلقے کا نام ٹیپو سلطان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ حکومت نے نام کی تبدیلی کو قبول نہیں کیا۔