ٹی آر ایس سے انتخابی مفاہمت کا امکان خارج از بحث: ریونت ریڈی

   

پرشانت کشورعنقریب ٹی آر ایس کے خلاف کام کریں گے،بی جے پی کیلئے کوئی امکانات نہیں
حیدرآباد۔/26اپریل، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے واضح کردیا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے ساتھ انتخابی مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ بعض گوشوں کی جانب سے یہ اطلاعات پھیلائی جارہی ہیں کہ آئندہ انتخابات میں دونوں پارٹیوں کے درمیان مفاہمت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی نے پارٹی قائدین کے ساتھ اپنے حالیہ اجلاس میں مجلس اور ٹی آر ایس کے ساتھ مفاہمت کے امکانات کو خارج کردیا تھا۔ ریونت ریڈی 6 مئی کو ورنگل میں راہول گاندھی کے جلسہ عام کی کامیابی کیلئے کریم نگر کے بعد کھمم کے دورہ پر ہیں تاکہ مقامی قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے کسانوں کی بڑی تعداد میں شرکت کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس دراصل چوروں کی پارٹی ہے اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ زہریلے سانپ سے زیادہ خطرناک ہیں۔ کے سی آر کا سایہ بھی ہم اپنے اوپر پڑنا برداشت نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس پارٹی ٹی آر ایس سے اتحاد کرتی ہے تو تلنگانہ میں بی جے پی کو اہم اپوزیشن کے طور پر تسلیم کرنے کے مماثل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کبھی بھی ٹی آر ایس سے مفاہمت کا فیصلہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرشانت کشور کی چیف منسٹر کے سی آر سے ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب پرشانت کشور کانگریس کے ساتھ مل کر ٹی آر ایس کی شکست کیلئے کام کریں گے۔ ریونت ریڈی نے پرجا سنگرام یاترا کے سلسلہ میں بی جے پی صدر بنڈی سنجے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کریم نگر کیلئے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے بنڈی سنجے نے عوام کی بھلائی اور ترقی کیلئے کیا اقدامات کئے اور کتنا فنڈ خرچ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کیلئے تلنگانہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ر