منوگوڑ میں کانگریس کی مقبولیت، بی جے پی کے فائدہ کیلئے قومی سیاسی پارٹی
حیدرآباد ۔29 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) کانگریس کی تشہیری کمیٹی کے صدرنشین مدھو یاشکی گوڑ نے ٹی آر ایس اور بی جے پی پر میچ فکسنگ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ منوگوڑ اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں کانگریس کو شکست دینے کیلئے دونوں پارٹیوں نے خفیہ مفاہمت کرلی ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مدھو یاشکی گوڑ نے کہا کہ کے سی آر اپنی بدعنوانیوں کو بچانے کیلئے قومی سیاسی جماعت قائم کر رہے ہیں۔ قومی سیاست میں حصہ لینے کا مقصد اپنے خاندان کو بدعنوانیوں کے الزامات سے بچانا اور حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی قومی سیاسی پارٹی سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ قومی سطح پر بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کے سی آر نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی کے خلاف محاذ کی تیاری کیلئے کے سی آر یو پی اے کی حلیف جماعتوں سے ربط قائم کر رہے ہیں تاکہ کانگریس زیر قیادت یو پی اے اتحاد کو کمزور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے بی جے پی کی حلیف جماعتوں سے ملاقات نہیں کی ۔ مدھو یاشکی گوڑ نے کہا کہ کانگریس کے بغیر قومی سطح پر کوئی بھی سیاسی محاذ ممکن نہیں ہے۔ شراب اسکام میں کے سی آر کی دختر کویتا کا نام منظر عام پر آیا ہے۔ مرکز کی جانب سے کارروائی سے بچنے کیلئے کے سی آر قومی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے ساتھ مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ راہول گاندھی نے واضح کردیا تھا کہ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی تنہا مقابلہ کرے گی اور ٹی آر ایس سے کوئی مفاہمت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ منوگوڑ میں کانگریس کی بڑھتی مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکات ہوکر ٹی آر ایس اور بی جے پی نے میچ فکسنگ کی ہے۔ر