ٹی آر ایس کو قومی پارٹی میں تبدیل کرنے کی تجویز سے بی جے پی فکرمند

   

سربراہ پارٹی کے سی آر کا انتہائی اہم فیصلہ : محمد فاروق حسین
حیدرآباد۔12جون(سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی کو قومی پارٹی میں تبدیل کرنے کے فیصلہ سے بھارتیہ جنتاپارٹی میں بوکھلاہٹ پیدا ہوچکی ہے اور بی جے پی اپنے فرقہ پرستی کے ایجنڈہ پر عمل آوری کے متعلق فکرمند ہونے لگی ہے۔چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کے قومی سیاست میں داخلہ کا تلنگانہ عوام کی جانب سے خیر مقدم کیا جا رہاہے اور یہ فیصلہ ہندستان میں ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔ جناب محمد فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل نے تلنگانہ راشٹر سمیتی کو بھارتیہ راشٹرسمیتی میں تبدیل کرنے کے فیصلہ کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک سے فاشسٹ اور فرقہ پرست سیاست کے خاتمہ کے لئے کے سی آر جیسے بے باک قائد کی ضرورت ہے جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال قائم کرنے والا ہو اور ملک میں نفرت کو بڑھاوا دینے والوںکے خلاف سخت جدوجہد کے لئے تیار رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں جہاں فرقہ پرستی کا زہر گھولا جا رہاہے ان ریاستوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے سلسلہ میں فوری طور پر اقدامات کے آغاز کی ضرورت ہے ۔ جناب محمدفاروق حسین نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ملک بھر میں ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ہمراہ اتحاد اور علاقائی سیاسی جماعتو ںکوان کی اہمیت سے واقف کرواتے ہوئے ایسا اتحاد تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ملک کو فرقہ پرستی سے پاک بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ رکن قانون ساز کونسل نے کہا کہ ملک بھر میں حکومت تلنگانہ دیگر سیکولر جماعتوں کے لئے مثال بن چکی ہے اور غیر بی جے پی ریاستوں کے لئے تلنگانہ مشعل راہ کا کام کر رہا ہے ۔انہو ںنے تلنگانہ راشٹر سمیتی کے سیکولر کردار کو شبہات سے بالاتر قراردیتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ کی ترقی کے لئے جو اقدامات کئے ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں اور خود مرکزی حکومت اس بات کامتعدد مرتبہ اعتراف کرچکی ہے۔ جناب محمد فاروق حسین نے کہا کہ فاشسٹ قوتیں مذہبی منافرت کو فروغ دیتے ہوئے اپنی بقاء کی کوشش کررہی ہیں جبکہ حکومت تلنگانہ بی جے پی کی ہر کوشش کو ناکام کرنے کے عہد کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے جس کی وجہ سے ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی تلنگانہ راشٹر سمیتی اور کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت پر اعتماد ہونے لگا ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ کے سی آر کے فیصلہ کا بہار‘ کرناٹک‘ مہاراشٹر ا‘ اوڈیشہ ‘ اترپردیش‘ دہلی کے علاوہ دیگر ریاستوں میں بھی خیر مقدم کیا جا رہاہے کیونکہ قومی سطح پر بی جے پی کے متبادل کی شدت سے ضرورت محسوس کی جا رہی تھی اور کے سی آر نے ملک میں محسوس کی جا رہی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے یہ انتہائی اہم فیصلہ کیا ہے جس میں انہیں کامیابی کا یقین ہے۔م