صبح 9 بجے سے باری کے انتظار میں شام ہوگئی
حیدرآباد۔/28 ستمبر، ( سیاست نیوز) وقف ترمیمی قانون پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے دورہ حیدرآباد کے موقع پر نمائندگی کے خواہشمندوں کو صبرآزما مرحلہ سے گذرنا پڑا۔ پارلیمانی کمیٹی کی سماعت کا وقت صبح 9 بجے دیا گیا تھا اور فہرست میں شامل تمام افراد اور تنظیمیں مقررہ وقت سے قبل ہوٹل تاج کرشنا پہنچ گئے۔ کمیٹی کی کل رات احمد آباد سے آمد میں تاخیر کے سبب سماعت کا بھی آغاز تاخیر سے ہوا۔ تقریباً 10:30 بجے سماعت شروع ہوئی اور پہلے مرحلہ میں تلنگانہ، آندھرا پردیش اور چھتیس گڑھ کے عہدیداروں کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا۔ آندھرا پردیش اور چھتیس گڑھ سے آئے ہوئے مختلف تنظیموں کے نمائندوں کو بھی ابتداء میں ہی موقع دیا گیا۔ لنچ کے وقفہ تک کئی افراد کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا اور ایک مرحلہ پر کسانوں اور پٹہ داروں کے نمائندے پولیس کی رکاوٹوں کو توڑ کر جبراً ہال میں داخل ہوگئے اور کمیٹی کے ارکان کو ان کی سماعت کیلئے مجبور کیا۔ کئی اہم شخصیتوں اور ضعیف العمر افراد کو اپنی باری کیلئے صبح 9 سے شام 4 بجے تک انتظار کی زحمت سے گذرنا پڑا۔ ملاقات کیلئے مدعو کئے جانے والے افراد اور تنظیموں کے انتخاب کے مسئلہ پر اجلاس میں کئی مرتبہ ارکان کے درمیان بحث و تکرار ہوگئی۔ آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والی ایک مذہبی شخصیت نے اظہار خیال کے دوران صدرنشین پر سخت ریمارک کئے جس پر تمام ارکان برہم ہوگئے اور انہیں معذرت خواہی کرنی پڑی۔1