پارلیمنٹ بجٹ اجلاس کا آج آغاز

,

   

نرملا سیتارامن کل بجٹ پیش کریں گی، حکومت کو گھیرنے اپوزیشن کی حکمت عملی

نئی دہلی : پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس 2022ء کا پیر سے آغاز ہوگا جو اس سال کا پہلا سیشن ہے۔ روایت کے مطابق صدر جمہوریہ رامناتھ کووند پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ایک خطاب کریں گے۔ کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر پارلیمنٹ اجلاس میں کئی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔ ابتدائی دو دنوں کے بعد لوک سبھا اور راجیہ سبھا کو شفٹ میں منعقد کیا جائے گا۔ توقع ہیکہ وزیراعظم کا خطاب دونوں ایوانوں میں علحدہ طور پر ہوگا۔ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا آغاز ملک کی 5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات سے کچھ دن پہلے شروع ہورہا ہے۔ توقع ہیکہ الیکشن والی ریاستوں سے متعلق امور کو ایوان میں اٹھایا جائے گا۔ دوسری طرف کسان تنظیمیں بھی اپنے مطالبات کو لیکر دوبارہ احتجاج کے موڈ میں نظر آرہی ہیں۔ توقع ہیکہ اپوزیشن جماعتیں اس مسئلہ کو اٹھائیں گے۔ نیویارک ٹائمس میں شائع پیگاسیس معاملت سے متعلق نئے انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتیں حکومت کو گھیرنے کی حکمت عملی تیار کررہی ہے۔ 28 جنوری کو سونیا گاندھی کی زیرصدارت کانگریس پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں روزگار، کسانوں کے مسائل اور ایل اے سی پر چین کی دراندازی جیسے مسائل کو اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ مرکزی وزیرفینانس نرملا سیتارامن یکم ؍ فروری کو مرکزی بجٹ پیش کریں گے۔ بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ 31 جنوری تا 11 فروری ہوگا۔ بجٹ سیشن 2022ء کے دوران راجیہ سبھا اور لوک سبھا کا اجلاس شفٹ میں ہر دن 5 گھنٹوں کیلئے ہوگا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں 2 فروری سے صدر جمہوریہ کے خطبہ پر تحریک تشکر پر مباحث ہوں گے۔ پارلیمنٹ کے موجودہ بجٹ سیشن میں پہلے دو دن میں وقفہ صفر اور وقفہ سوالات نہیں ہوگا۔ بجٹ اجلاس 2022ء دو حصوں میں ہوگا۔ دوسرے مرحلہ میں 14 مارچ تا 8 اپریل اجلاس منعقد ہوگا جس کا مقصد کوویڈ قواعد پر عمل آوری کو یقینی بنانا ہے۔ یہ دوسرا موقع ہیکہ کورونا وبا کے باعث لوک سبھا اور راجیہ سبھا شفٹ میں کام کریں گے۔ راجیہ سبھا کا اجلاس پہلے نصف میں ہوگا جبکہ دوسرے حصہ میں لوک سبھا اجلاس ہوگا۔ 2 فروری سے یہ اجلاس شام 4 بجے سے رات 9 بجے تک ہوگا۔ راجیہ سبھا کا اجلاس صبح 9 یا 10 بجے سے دن میں 2 بجے تک ہوگا۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں حکومت کو مختلف امور پر گھیرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔
خاص طور پر پیگاسیس کے معاملہ میں نیویارک ٹائمس میں شائع حالیہ انکشافات کے بعد اپوزیشن خاص طور پر کانگریس اس مسئلہ کو اٹھانے کا منصوبہ بنارہی ہے۔