پارلیمنٹ میں پرینکا گاندھی کی تقریر اور صلاحیتوں کی زبردست ستائش

   

نرمل ۔ 22 ۔ اگست : ( جلیل ازہر ) : جاریہ پارلیمنٹ سیشن میں پرینکا گاندھی نے مرکزی حکومت پر بڑا اچھا طنز کرتے ہوئے کہا کہ جو یہاں سے جاتا ہے وہاں دُھل جاتا ہے ۔ اس لیے کے ان کے پاس واشنگ مشین ہے ۔ اس طرف رہنے والا داغ دار ہوتا ہے اور ان کے پاس چلے جانے کے بعد بے داغ ہوجاتا ہے ۔ ان کی اس تقریر اور صلاحیتوں کی ہر سیاسی گوشہ میں زبردست ستائش ہورہی ہے ۔ اس میں دورائے نہیں کے سیاست پرینکا گاندھی کی وراثت ہے ۔ انہوں نے اور بھی سخت الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ آج نئے نئے قانون سرمایہ داروں کے لیے بن رہے ہیں ۔ سارے کاروبار ایک ہی شخص کے حوالہ کیے جارہے ہیں ۔ بندرگاہیں ، ایرپورٹس ، سڑکیں ، ریلوے کا کام بھی ایک ہی شخص کو دیا جارہا ہے ۔ جو غریب ہے وہ اور بھی غریب ہورہا ہے ۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ آپ بھی بیالٹ پر چناؤ کرائیں تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا ۔ حکومتوں کو پیسے کے بل بوتے پر گرادیتے ہیں اگر انصاف کے لیے آواز اٹھتی ہے تو سیاسی فائدہ کے لیے سچ بولنے والوں کو ڈرایا جاتا ہے ۔ وزیراعظم آئین کی بات آتی ہے تو آئین کی کتاب کو ماتھے سے لگا لیتے ہیں اور جب منی پور جیسے حالات کہیں بھی ہوں آواز اٹھتی ہے تو ان کے ماتھے پر شکن تک نہیں آتی ۔ پرینکا گاندھی نے یہاں تک کہہ دیا کہ ڈر کا ایسا ماحول انگریزوں کے دور میں بھی نہیں تھا ۔۔