پاسدارانِ انقلاب کے خفیہ گروہ کی تشکیل

   

بغداد ۔ 19 جون (ایجنسیز) ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے عراق میں خفیہ گروہوں کی ایک نئی تشکیل کی ہے جس کا مقصد خلیجی ممالک پر حملے کرنا ہے جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔ ان نئے گروہوں کو موجودہ مسلح گروہوں سے الگ رکھا گیا ہے تاکہ ان کی شناخت نہ ہو سکے۔ یہ بات آٹھ عراقی ذرائع نے بتائی ہے۔تین ذرائع کے مطابق ہر گروہ تقریباً 10 عراقی شیعہ جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔ ان میں تین سے چار گروہوں نے 20 اپریل سے 17 مئی کے درمیان بصرہ اور سماوہ کے صحرائی علاقوں سے کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر کم از کم سات ڈرون حملے کیے ہیں۔ ذرائع نے وضاحت کی کہ ان کے ارکان کا تعلق “المقاومۃ الاسلامیۃ فی العراق” سے ہے، جو ہزاروں جنگجوؤں پر مشتمل ایک شیعہ مسلح اتحاد ہے۔عراقی حکام اور مسلح گروہوں کے پانچ کمانڈروں نے بتایا کہ یہ نئے گروہ اپنی مرکزی قیادت کے بجائے براہ راست پاسدارانِ انقلاب کو رپورٹ کرتے ہیں۔ پانچ کمانڈروں کا کہنا ہے کہ یہ تشکیل پاسدارانِ انقلاب کے طریقوں میں تبدیلی ہے، جس کا مقصد ایران نواز مسلح گروہوں کے کمزور ہونے اور وسائل کی کمی کے دوران خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا ہے۔عراقی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل اور عسکری امور کے ماہر جاسم البہادلی کے مطابق یہ نئے گروہ حجم مین چھوٹے، نظریاتی طور پر زیادہ سخت گیر اور کنٹرول کے تابع ہیں، جو اقتصادی دباؤ میں ایران کی وسائل کو بچانے کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔
عراق میں موجود بہت سے مسلح دھڑے جن کے تہران سے گہرے تعلقات ہیں، ایران کے ساتھ منسلک “محورِ مزاحمت” کی بنیاد ہیں۔ یاد رہے کہ عراق میں کچھ گروہوں نے ماضی میں امریکی مفادات پر درجنوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس کے جواب میں 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے آغاز کے بعد سے مہلک فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں۔