پام آئل کی پیداوار کبھی کم نہیں کریں گے :انڈونیشیا، ملائشیا

   

جکارتہ: دنیا بھر میں پام آئل کے سب سے بڑے پیداواری ممالک انڈونیشیا اور ملائیشیا یورپی یونین کے فیصلے کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنانے پر متفق ہوگئے ۔اس حوالے سے غیرملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انڈونیشیا اور ملائیشیا کے سربراہان نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پام آئل کے خاتمے کیلئے ہونے والی کوششوں کے خلاف مل کر کام کریں گے ۔رپورٹ کے مطابق یہ بات انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدوڈو اور ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے ملاقات کے بعد سامنے آئی جو اپنا پہلا غیرملکی دورہ کر رہے تھے ۔واضح رہے کہ یورپی یونین نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سال 2030 تک پام آئل پر مبنی بائیو ایندھن کو مرحلہ وار ختم کردے گی کیونکہ اس کا خیال ہے کہ جنگلات کی کٹائی سے ماحولیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔یورپی یونین کا مؤقف ہے کہ پام آئل جیسی فصلوں اور جنگلات کی کٹائی ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ اور بالواسطہ طور پر موسمیاتی تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔