جاریہ سال کی طرح آئندہ سال بھی ہندوستان کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اترپردیش ‘ اترکھنڈ ‘ گوا ‘ منی پور اور پنجاب میںآئندہ سال کے اوائل میںانتخابات ہونے والے ہیں اور بی جے پی نے ان کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے تیاریوں کا ابھی سے آغاز کردیا ہے ۔ بی جے پی کی توجہ زیادہ تراترپردیش پر ہے جہاں آدتیہ ناتھ کی زیر قیادت حکومت کے خلاف عوام یں شدید ناراضگی اور برہمی پائی جاتی ہے ۔ کورونا بحران کے دوران پیش آنے والی مشکلات کی وجہ سے عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ ان کا یہ احساس ہے کہ جتنی مشکلات کا انہیں کورونا کی دوسری لہر کے دوران سامنا کرنا پڑا ہے اتنا برا وقت ان پر پہلے کبھی نہیں آیا تھا اور اس مشکل ترین وقت میں بھی حکومت نے ان کی داد رسی کرنے کی بجائے صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفاء کیا ہے ۔ جن پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ان میں سوائے پنجاب کے تمام ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں قائم ہیں۔ بی جے پی کیلئے چار ریاستوں میںاقتدار کو بچانا اس بار آسان نظر نہیں آتا ۔ چونکہ ساری توجہ اترپردیش پر مرکوز کی جا رہی ہے وہاں کے حالات کی سنگینی اور پارٹی کیلئے وہاں پیش آنے والی مشکلات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ ریاست میں عوام کورونا وباء کے دوران ریاستی حکومت کی نا اہلی اور ناقص کارکردگی سے نالاں ہیں۔ انہیں یہ احساس ہوچکا ہے کہ حکومت نے ان کی مدد نہیں کی ہے بلکہ عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا تھا ۔ چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کے خلاف خود بی جے پی کے ارکان اسمبلی میں ناراضگی ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ چیف منسٹر آمرانہ روش اختیار کئے ہوئے ہیں اور پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی سے ہی ملاقات کرنے کیلئے ان کے پاس وقت نہیں ہے ۔ ارکان اسمبلی اپنی ان شکایات سے ہائی کمان کو بھی واقف کرواچکے ہیں تاہم ہائی کمان کیلئے قیادت میں تبدیلی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ پارٹی کو احساس ہے کہ آدتیہ ناتھ کے خلاف کارروئی کرتے ہوئے وہ انتخابات میں کامیاب مقابلہ نہیں کر پائے گی ۔ ایسے میں درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بی جے پی علی کمان مرکز سے ریاست کی صورتحال سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔
علاوہ ازیں اترکھنڈ میں بھی حالات بی جے پی کیلئے سازگار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ وہاں صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے چیف منسٹر کی تبدیلی عمل میں لائی گئی تھی تاہم نئے چیف منسٹر بھی ہر چند دن میں کچھ متنازعہ ریمارکس کرتے ہوئے عوامی برہمی کو دعوت دے رہے ہیں۔ منی پور میں بی جے پی کی اتحادی حکومت ہے ۔ اسی طرح گواء میں بھی بی جے پی نے چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی ہے ۔ اترپردیش ہو یا دوسری ریاستیں ہوں اپنی اتحادی جماعتوں کو این ڈی اے میں برقرار رکھنا بھی بی جے پی کیلئے آسان نہیں رہ گیا ہے ۔ مرکزی حکومت کے حالیہ اقدامات اور کورونا بحران میں اس کی ناقص کارکردگی نے علاقائی اور مقامی جماعتوں کو نالاں کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ انتخابات سے قبل اتحادی جماعتوں کے ساتھ جو نازیبا رویہ اختیار کیا گیا تھا اس سے بھی یہ جماعتیں نالاں ہیں۔ ان جماعتوں کو اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی جدوجہد کا سامنا ہے ۔ ان حالات میں بی جے پی کیلئے تمام اتحادی جماعتوں کو اپنے ساتھ برقرار رکھنا آسان نہیں رہ گیا ہے ۔ اس کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی ایک جامع حکمت عملی کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ حالات مرکزی حکومت کیلئے اور بی جے پی کیلئے فی الحال اتنے سازگار دکھائی نہیں دیتے جتنے پہلے رہے تھے ۔ خاص طور پر مرکز میں اقتدار کی دوسری معیاد کے دوران حکومت کے بعض فیصلے اور اقدامات نے اپوزیشن جماعتوں کیلئے جدوجہد کی راہ ہموار کردی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ جماعتیں اپنی کمزوریوں کو قبل از وقت دور کرتے ہوئے سرگرم ہو جائیں اور عوام کی دلچسپی اور تشویش کے مسائل کو موثر ڈھنگ سے پیش کرنے کی کوشش کریں۔
گذشتہ مہینوں میںمغربی بنگال میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے بھی بی جے پی کیلئے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ جس طرح سے ممتابنرجی نے ریاست میں ساری کوشش اور طاقت جھونک دینے کے باوجود وہاں بی جے پی کو شکست سے دوچار کیا ہے اس سے اپوزیشن جماعتوں میں یہ اعتماد بحال ہونے لگا ہے کہ اگر جامع حکمت عملی اور مشقت کے ساتھ انتخابات میں مقابلہ کیا جائے تو بی جے پی کو شکست دی جاسکتی ہے ۔ ملک کیعوام میں بھی یہ احساس بحال ہونے لگا ہے کہ بی جے پی ناقابل شکست نہیں ہے ۔ ممتابنرجی کی مغربی بنگال میں کامیابی نے عوام میں اور اپوزیشن جماعتوں میں حوصلہ پیدا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ این سی پی سربراہ شرد پوار ابھی سے بی جے پی کے خلاف ایک متبادل تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ فی الحال یہ کہا جاسکتا ہے کہ پانچ ریاستوں کے انتخابات بی جے پی کیلئے سہل نہیںہونگے ۔
کسان احتجاج ‘ لا تعلقی کب تک
ملک میں کسان برادری گذشتہ آٹھ ماہ سے احتجاج کر رہی ہے ۔ مرکزی حکومت کے نئے زرعی قوانین کے خلاف یہ احتجاج شروع ہوا تھا اور درمیان میںکورونا کی دوسری لہر اور پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کی وجہ سے اس پر سے توجہ بٹ گئی تھی تاہم ایک بار پھر کسان برادری اپنے احتجاج میںشدت پیدا کرنے کی تیاری کر رہی ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اس احتجاج کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ کچھ گوشوں سے کبھی کوئی بیان دیا جاتا ہے لیکن احتجاج کو ختم کرنے اور کسانوں کی شکایات کا ازالہ کرنے کی سمت کوئی سنجیدہ پہل اب تک نہیں ہوئی ہے ۔ مرکزی حکومت کے ذمہ دار وزرا ہوں یا پھر خود وزیر اعظم ہوں انہوں نے اس سلسلہ میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے ۔ کسان ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ہندوستان کی معیشت زراعت پر انحصار کرتی ہے ۔ ایسے میں کسانوں کو غیر مطمئن کرتے ہوئے صورتحال سے نظریں چرانا ملک کی معیشت کے مفاد میں نہیں ہوگا ۔ آٹھ ماہ سے کسان مسلسل احتجاج کر رہے ہیں اور مرکزی حکومت کو اب اس پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ کسان قائدین سے بات چیت شروع کی جانی چاہئے ۔ حکومت کو اپنا موقف رکھنا چاہئے ۔ کسانوں کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور کوئی ایسا راستہ نکالنے کی سمت پہل ہونی چاہئے جو کسانوں اور ملک کے مفادات میں ہو تاکہ کسان اپنے احتجاج کو ختم کرسکیں۔ اس احتجاج سے مزید لا تعلقی ملک کی معیشت کیلئے منفی اثرات ہی مرتب کرے گی ۔
