بنگلورو سمیت کرناٹک کے مختلف مقامات سے 14 افرادزیر حراست
بنگلورو: بنگلورو کی ایک عدالت نے پاپلر فرنٹ آف انڈیااور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا سے روابط کا الزام عائد کرتے ہوئے 14 لوگوں کو 3 اکتوبر تک پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ بنگلورو پولیس نے 14 لوگوں کو فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور مجرمانہ سازش رچنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ پولیس کمشنر سی ایچ پرتاپ ریڈی نے کہا کہ مشتبہ افراد کو شہر کے کے جی ہالی پولیس اسٹیشن میں درج ایک از خود کیس کے سلسلے میں پوچھ تاچھ کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں ریاست کے مختلف مقامات سے 19 افراد کی شناخت کی گئی ہے۔ ان کا تعلق بنگلورو، میسور، منگلورو، دکشینا کنڑ، شیموگا، داونگیرے اور کوپل سے ہے۔ 19 مشتبہ افراد میں سے14 کو گرفتار کرنے میں کامیاب ملی ہے، جن میں دو بنگلورو سے تھے۔ باقی 13 کو مزید تفتیش کے لیے شہر لایا جائے گا۔ گرفتار ہونے والوں میں پلنا گارڈن کا رہنے والا ناصر پاشا اور بنگلورو کے ایچ بی آر لے آؤٹ سے منصور احمد شامل ہیں۔پولیس کمشنر سی ایچ پرتاپ ریڈی نے کہا کہ یہ تحویل دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے مشتبہ افراد کے خلاف این آئی اے کے ذریعہ ملک گیر چھاپوں کا حصہ نہیں ہے۔ ریڈی نے کہا کہ این آئی اے اور مرکزی ایجنسیوں کے کچھ معتبر معلومات کی بنیاد پر سٹی پولیس نے چہارشنبہ کو بنگلورو ایسٹ کے کے جی ہالی پولیس اسٹیشن میں 19 پی ایف آئی ممبران کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ملک کی تقریباً 15 ریاستوں میں پی آئی ایف کے خلاف این آئی اے اور ای ڈی کی بھی کارروائیاں جاری ہیں۔