پاپولر فرنٹ پر امتناع ‘ دیگر تنظیمیں آزاد

   

مرکزی حکومت کی جانب سے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پانچ سال کیلئے امتناع عائد کردیا گیا ہے ۔ یہ امتناع اس دعوے کے ساتھ عائد کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی ۔ جہاں تک تنظیم کا خود دعوی ہے کہ اسے ایک بھی دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے خلاف محض چند پیادوں کے ذریعہ ماحول تیار کروایا گیا اور دلالوں نے حکومت کیلئے راہ ہموار کرتے ہوئے اس تنظیم پر امتناع عائد کروانے میں اہم رول ادا کیا ۔ جہاں تک دہشت گردانہ سرگرمیوں کی بات ہے اگر واقعی کوئی تنظیم ان میں ملوث رہتی ہے تو اسے کام کرنے کا کوئی حق نہیں دیا جاسکتا ۔ جوادارے اور تنظیمیں خون خرابہ میں ملوث رہتی ہیں یا دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعہ ملک کے استحکام کو متاثر کرتی ہیں ان کے خلاف کارروائی بہر صورت حق بجانب قرار دی جاسکتی ہے ۔ پاپولر فرنٹ کا جہاں تک سوال ہے تو ملک کی تحقیقاتی ایجنسیاں ابھی صرف اپنے تجزئے اور رپورٹس ہی پیش کرپا رہی ہیں۔ کوئی ایسا ثبوت یا مواد یا عدالتی فیصلہ پیش نہیں کیا جاسکا ہے جن میں پاپولر فرنٹ کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا گیا ہو۔ واقعتا ایسا کوئی مواد یا ثبوت دستیاب ہے تو اسے بھی منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کا ادعا ہے کہ ایک سرکردہ مسلم تنظیم سے مشاورت کے بعد امتناع کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ حکومت نے کس تنظیم سے مشاورت کی اور کس کی رائے کو مقدم سمجھا اس کو بھی منظر عام پر لانا چاہئے تاکہ عام مسلمانوں کے ذہنوں میں اگرک چھ سوالات ہوں تو ان کا ازالہ ممکن ہوسکے ۔ تاہم ایک حقیقت یہ واضہ ہوتی جا رہی ہے کہ حکومت اس طرح کے معاملات میں یکطرفہ کارروائیاں انجام دے رہی ہے ۔ ملک کی تحقیقاتی ایجنسیاں بھی اس معاملے میں مکمل پیشہ ورانہ دیانت کے ساتھ کام انجام دینے میں پس و پیش کا شکار نظر آتی ہیں۔ صرف اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ دیگر کئی تنظیموں کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کی جا رہی ہے۔ قانون کے نفاذ میں سبھی کے ساتھ یکساں رویہ اختیار کئے جانے کی ضرورت ہے ۔
ملک میں ایسی بے شمار تنظیمیں ہیں جو کھلے عام دہشت گردانہ اور تشددآمیز سرگرمیوں میں ملوث ہو رہی ہیں۔ ملک کے بے شمار مقامات پر بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں آر ایس ایس اور اس سے ملحقہ تنظیموں اور ان کے کارکنوں کے رول کا بھی پردہ فاش ہوا تھا ۔ کچھ معاملات میں تو عدالتوں نے شائد سزائیں بھی سنائی ہیں۔ ایسے میں ان تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔ کئی تنظیمیں ایسی ہیں جو انتہائی اشتعال انگیز بیانات جاری کرتے ہوئے ماحول کو خراب کر رہی ہیں۔ اقلیتوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ جنگ کا اعلان کرتے ہوئے اکثریتی طبقات کے نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے کیلئے اکسایا جا رہا ہے ۔ انہیں مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کی بالواسطہ ترغیب دی جا رہی ہے ۔ اشتعال دلایا جا رہا ہے اور ملک کے ماحول کو پراگندہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ ایسی تنظیموں اور اداروں کے خلاف حکومت یا پھر نفاذ قانون کی ایجنسیوں کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے ۔ اس تعلق سے چشم پوشی کی جا رہی ہے اور انہیں نظر انداز کیا جا رہاہے حالانکہ یہ اندیشے ہیں کہ اس طرح کی سرگرمیوں سے ملک میں امن متاثر ہوسکتا ہے ۔ سماج میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے ۔ اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوسکتا ہے اس کے باوجود نہ حکومت اس جانب کوئی توجہ کر رہی ہے اور نہ ہی وہ عناصر جو اقتدار کی دلالی کو اپنا فرض عین بنائے ہوئے ہیں اس جانب کوئی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دہشت گردانہ سرگرمیوں یا پھر خلاف قانون سرگرمیوں کے معاملہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس معاملہ میں کوئی امتیاز کیا جانا چاہئے ۔تنظیم چاہے جو کوئی بھی ہو ‘ چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو‘ چاہے اس نے کسی بھی قسم کا لبادہ اوڑھا ہوا ہو اگر وہ خلاف قانون سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور ملک کے امن کیلئے خطرہ بن سکتی ہیں تو ان کے خلاف کسی امتیاز کے بغیر کارروائی ہونی چاہئے ۔ نفاذ قانون میں دوہرے معیارات اختیار نہیں کئے جانے چاہئیں اورنہ ہی کسی کی پردہ پوشی کی جانی چاہئے ۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کو اس معاملے میں حکومت کو حقائق سے واقف کرواتے ہوئے کارروائی کو یقینی بنانا چاہئے ۔