پاکستانی فوجی اور سیاسی قیادت کی سفارتی محاذ پر دوہری کاوشیں

   

اسلام آباد ۔ 20 اپریل (ایجنسیز) پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت نے نئے امریکی ایرانی امن مذاکرات کو ممکن بنانے کے لیے بیک وقت دو محآذوں پر جو سفارتی کوششیں کیں، وہ مقصد کی اہمیت اور وقت کی کمی کے باوجود فرائض کی باہمی تقسیم کی ایک متاثر کن مثال تھی۔ پاکستان کی طرف سے ایران جنگ میں امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی براہ راست امن مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی جا چکی ہے، جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا، لیکن اسلام آباد حکومت نے تہران اور واشنگٹن کو کسی جنگ بندی ڈیل تک لانے کے لیے اپنی جو مسلسل سفارتی کاوشیں جاری رکھیں، یہ انہی کا ثمر ہے کہ اب پاکستانی دارالحکومت میں ہی امریکہ اور ایران کے مابین براہ راست امن مکالمت کا ایک نیا دور ہونے والا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ کی تازہ کارروائی کے بعد جنگ بندی کے مستقبل پر سوالیہ نشان۔ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ میں تہران کی طرف سے اسرائیل پر اور خلیجی عرب ریاستوں میں امریکی عسکری اور اقتصادی مفادات پر جو جوابی حملے کیے جاتے رہے، انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف اس جنگ کو مشرق وسطیٰ کی جنگ میں بدل دیا تھا۔E/F