پاکستان سپریم کورٹ کے ججس پر خوف خدا نہیں خوفِ حکومت طاری

,

   

عمران خان سے مسلسل نا انصافی اور مظالم کا سلسلہ جاری، جسٹس (ریٹائرڈ) مارکنڈے کٹجو کے تاثرات

نئی دہلی : 9 ستمبر (سیاست نیوز) پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے خاص طور پر سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کو لے کر حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر جو الزامات عائد کررہے ہیں اس کے دنیا بھر میں چرچے ہیں۔ پاکستان کے حالات، عمران خان کی صحت اور پاکستانی حکومت کی ناانصافی کے بارے میں ہندوستانی سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کٹجو اکثر تبصرے کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے ’’پاکستان سپریم کورٹ ججس اور قاضی سراج الدین‘‘ کے زیراعنوان اپنے ایک حالیہ مضمون میں میں لکھا کہ پاکستان میں فی الوقت جو کچھ ہورا ہے میں اس کے لیے پوری طرح پاکستان سپریم کورٹ ججس کو ذمہ دار قرار دیتا ہوں۔ ان ججس نے احکامات جاری کئے جیسے کہ حالیہ عرصہ کے دوران ایک حکم جاری کیا گیا جس میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل منتقل کیا جائے۔ ہفتہ میں ایک مرتبہ ارکان خاندان کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور ہفتہ میں دو مرتبہ عمران خان سے فون پر ان کے بچوں کی بات کروائی جائے لیکن افسوس صد افسوس کہ حکومت پاکستان اور قومی قیادت نے پاکستان سپریم کورٹ ججوں کی ان ہدایات عمل کرنے کی بجائے اسے کوڑے دان کی نذر کردیا۔ اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ حکومت پاکستان یا اسٹابلشمنٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی بجائے ججس نے خاموشی اختیار کرلی۔ اس طرح وہ اس مسئلہ کو پوری طرح نظرانداز کردیا جس سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان سپریم کورٹ کے ججس کو صرف اپنے مفادات اپنی اور اپنے خاندان کی زندگیوں کے ساتھ ساتھ انہیں ملنے والی مراعات اور وظیفے (پنشنس) کی فکر لاحق ہے لیکن قاضی سراج الدین بنگال کے قاضی صوبہ بھی ایک جج تھے جب انہیں ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، ان کی اپنی اور ارکان خاندان کی زندگیاں تھیں انہیں ان کی فکر لاحق تھی۔ لیکن انہوں نے ان تمام پر اپنے فرض منصبی کو ترجیح دی۔ اپنی ایک کتاب ’’ہسٹری آف بنگال‘‘ (تاریخ بنگال) میں پروفیسر چارلس اسٹیورٹ نے 1490 کے ایک دلچسپ مقدمہ کا حوالہ بھی دیا۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی و سابق وزیراعظم عمران خان 5 اگست 2023 سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ 73 سالہ عمران خان کے بارے میں جو خبریں آرہی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی اسٹابلشمنٹ (چاہے وہ سیول یا فوجی قیادت کیوں نہ ہو) عمران خان کو اپنے لیے اپنے اقتدار کیلئے بہت برا خطرہ سمجھتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عوام عمران خان کو بہت پسند کرتی ہے۔