پبلک سرویس کمیشن کے روبرو طلبہ تنظیموں کا احتجاج

   

کمیشن کا بورڈ توڑ دیا گیا، پرچہ جات کے افشاء کے خاطیوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

حیدرآباد۔/14مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے امتحانی پرچہ جات کے افشاء کے خلاف طلبہ تنظیموں کے احتجاج میں شدت پیدا ہوچکی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی کی طلبہ تنظیموں نے آج نامپلی میں واقع پبلک سرویس کمیشن کے دفتر کا گھیراؤ کیا اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ کی۔ بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے کارکنوں نے کمیشن کے دفتر کے روبرو دھرنا منظم کیا اور پولیس حصار توڑ کر کمیشن کے دفتر میں داخلہ کی کوشش کی۔ بی جے وائی ایم کے کارکنوں نے مین گیٹ پر چڑھ کر کمیشن کے سائن بورڈ کو توڑ دیا۔ بی جے وائی ایم کے ریاستی صدر بی پرکاش نے کمیشن کے صدرنشین کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ بی جے وائی ایم کارکنوں نے کمیشن کے بورڈ کو نقصان پہنچایا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ پولیس نے احتجاجیوں کو حراست میں لے لیا۔ یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر شیوا سینا ریڈی کی قیادت میں بھی کارکنوں نے دھرنا منظم کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں طلبہ محنت کے ذریعہ امتحانات میں حصہ لے رہے ہیں لیکن پرچوں کے افشاء کے ذریعہ مستحق امیدواروں سے ناانصافی کی جارہی ہے۔ شیوا سینا ریڈی نے گروپ I اور دیگر مسابقتی امتحانات کے پرچہ جات کے افشاء کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے 2014 کے بعد کمیشن کی جانب سے منعقدہ تمام امتحانات کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن شفاف امتحانات کے انعقاد میں ناکام ہوچکا ہے۔ طلبہ تنظیموں کے احتجاج کے نتیجہ میں علاقہ میں ماحول کشیدہ ہوگیا اور ٹریفک میں خلل پڑا۔ر
پولیس کے زائد دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔شیوا سینا ریڈی نے کہا کہ انٹر میڈیٹ امتحانات میںگذشتہ سال بے قاعدگیاں ہوئیں جبکہ پولیس ریکروٹمنٹ بورڈ کے امتحانی پرچو ں میں غیرمتعلقہ سوالات پوچھے گئے تھے۔ اس طرح ریاست میں تقررات سے متعلق امتحانات کے شفافیت سے انعقاد میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ر