پبلک سرویس کمیشن کے گھیراؤ کی کوشش پر وائی ایس شرمیلا گرفتار

   

پرچوں کے افشاء کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ، بیروزگار نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ
حیدرآباد۔31۔مارچ (سیاست نیوز) وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کی سربراہ وائی ایس شرمیلا کو ان کے حامیوں کے ساتھ آج اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب انہوں نے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے دفتر کے گھیراؤ کی کوشش کی۔ تقررات سے متعلق امتحانات کے پرچہ جات کے افشاء کے خلاف شرمیلا نے احتجاج کا فیصلہ کیا اور حامیوں کے ساتھ کمیشن کے دفتر کے روبرو احتجاج کیا ۔ پولیس نے شرمیلا اور ان کے حامیوں کو کمیشن کے دفتر کے قریب روک دیا اور حراست میں لے لیا گیا۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے شرمیلا نے کہا کہ پرچہ جات افشاء کے ذریعہ لاکھوں بیروزگار نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شفافیت کے ساتھ امتحانات کے انعقاد میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پبلک سرویس کمیشن کا تحفظ کرتے ہوئے احتجاج کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ شرمیلا کو چند دن قبل گھر پر محروس کرکے احتجاج سے روک دیا گیا تھا ۔ شرمیلا نے کہا کہ پولیس انہیں مسلسل تعاقب کرکے حکومت کے خلاف احتجاج سے روک رہی ہے۔ شرمیلا نے کہا کہ پرچہ جات کے افشاء کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ضروری ہیں اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم پر عوام کو بھروسہ نہیں ہے۔ شرمیلا نے کہا کہ پرچہ جات کے افشاء کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کی جانی چاہئے ۔ پولیس عہدیداروں کے ساتھ شرمیلا کی بحث و تکرار ہوئی اور انہوں نے سڑک پر بیٹھ کر دھرنا منظم کیا۔ شرمیلا کا کہنا تھا کہ انہیں پرامن احتجاج کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے پرچہ جات کے افشاء معاملہ میں کے ٹی راما راؤ کو ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے ۔ ر