پرامن احتجاج اور سڑک پر آئے بغیر کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوگی

   

گیان واپی مسجد پر توجہ نہیں دی گئی تو بابری مسجد طرز پر فیصلہ ہوگا ، مذہبی جماعتوں پر تنقید ، محمود پراچہ نامور وکیل کا ردعمل
حیدرآباد۔19۔مئی۔(سیاست نیوز) پر امن احتجاج اور سڑک پر آئے بغیر کوئی کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی اب امت مسلمہ کو سخت فیصلے کرنے چاہئے اگر اب بھی خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں بابری مسجد کی طرح گیان واپی اور دیگر مساجد و مذہبی مقامات کے مقدمات میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نامور قانون داں محمود پراچہ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ‘ جمعیت علمائے ہند اور دیگر مسلم تنظیموں پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان تنظیموں کے قائدین اب اس مقدمہ کو بھی ہارنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد معاملہ میں جس طرح قانونی طریقہ کار کو نظرانداز کرتے ہوئے کھدوائی پر آمادگی ظاہر کی گئی اور جس شخص نے کھدوائی کے دوران حاصل ہونے والے شواہد کا دعویٰ کیا اس پر دوران مقدمہ بورڈ اور دیگر وکلاء نے جرح نہیں کی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی نیت صحیح نہیں ہے۔ محمود پراچہ نے گیان واپی مسجد معاملہ میں کئے جانے والے اقدامات اور جس طرح کے عدالت کے احکامات آرہے ہیں ان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے وہ یہ کہنے کے موقف میں ہیں کہ اس مقدمہ میں بھی مسلمانو ںکو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مذہبی مقامات سے متعلق قانون 1991 کے متعلق دریافت کرنے پر کہا کہ قوانین شرفاء کے لئے ہوتے ہیں اور وہ ان قوانین پر گھنٹوں مباحث کرسکتے ہیں لیکن ’’ منو واد‘‘ کے ماننے والوں کی جانب سے جو کیا جا رہاہے وہ ان سب قوانین کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے ایک چیانل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ سمراٹ اشوک کے دور کی تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ اس وقت بودھ وہار کو منہدم کرتے ہوئے منادر کی تعمیر کی گئی تھی اور آج جب منوسمرتی کے ماننے والے یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ہندستان کو ہند راشٹر بنانے جا رہے ہیں تو ایسی صورت میں ان مذاہب کو نشانہ بنایا جا رہاہے جن مذاہب میں انسانیت اور مساوات کا درس دیا جاتا ہے ۔ سمراٹ اشوک کے دور میں بودھ مذہب کو جس طرح سے نشانہ بنایا گیا تھا اسی طرح سے آج اسلام کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محمود پراچہ نے بتایا کہ گیان واپی مقدمہ کا حشر بابری مسجد کے مقدمہ کی طرح ہوگایہ ابھی سے کہاجا رہاہے اور لوگوں کی ذہن سازی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قائدین بالخصوص مسلم تنظیموں کے ذمہ داروں سے سوال کریں کہ وہ مقدمہ کی پیروی کس طرح سے کر رہے ہیں اور کیوں پیروی کے نام پر کروڑہا روپئے وصول کئے جا رہے ہیں!محمود پراچہ نے کہا کہ اگر اب سوال نہیں کیا جاتا ہے اور خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو ایسی صور ت میں ہم سب گناہ گار ہوں گے اسی لئے قائدین اور تنظیموں سے سوال کئے جانے چاہئے تاکہ آر ایس ایس کو اس کی منصوبہ میں کامیاب ہونے سے روکا جائے۔م