H-City پراجکٹ کے تحت منصوبے کو منظوری ، حکومت کے احکامات
حیدرآباد ۔ 25 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : تنگ سڑکوں اور روزمرہ کے بدترین ٹریفک جام سے پریشان حیدرآباد کے پرانے شہر کے عوام کے لیے تلنگانہ حکومت نے ایک بڑی اور تاریخی خوشخبری سنائی ہے ۔ حکومت کی جانب سے اہم ترین انتظامی منظوریوں کا حکمنامہ جاری کیا گیا ہے جس سے برسوں سے نظر انداز شدہ پرانے شہر کے بنیادی ڈھانچے اور سڑکوں کی توسیع کو زبردست فروغ ملے گا ۔ حکومت نے H-City پراجکٹ کے پیاکیج 4 اور پیاکیج 5 کے تحت سڑکوں کے ترقیاتی کاموں میں کی گئی اہم ترامیم کو منظوری دے دی ہے ۔ جس کے تحت جملہ 6 اہم سڑکوں کو وسیع پیمانے پر تعمیر اور چوڑا کیا جائے گا ۔ زمین کے حصول کی لاگت میں اضافے پراجکٹ کے نفاذ میں پیدا ہونے والے مختلف چیلنجس ، تاخیر اور روڈ ڈیولپمنٹ پلان کی عدم موجودگی جیسے تکنیکی مسائل کو دور کرتے ہوئے اب ان مخصوص کاموں کے لیے مجموعی طور پر 863 کروڑ روپئے کے بجٹ میں ترامیم کو ہری جھنڈی دکھا دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ حکومت 5 دسمبر 2024 کو پرانے شہر میں ٹریفک سگنل کے بغیر سڑکوں کا نظام قائم کرنے کے لیے H-City پراجکٹ کا اعلان کیا تھا ۔ 5942 کروڑ روپئے کی بھاری لاگت والے اس عظیم الشان پراجکٹ کے تحت انتظامیہ نے جملہ 23 علاقوں میں فلائی اوورس ، انڈر پاسیس اور سڑکوں کی توسیع کے کاموں کو شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے ۔ سرکاری احکامات کے مطابق پیاکیج 4 کے تحت سڑکوں کی چوڑائی اور ڈیزائن میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ جس کی مجموعی لاگت 620 کروڑ روپئے ہے ۔ اس سے پہلے چندرائن گٹہ چوراہے سے بارکس تک سڑک کو 60 فیٹ چوڑا کرنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن اب عوامی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے بڑھاکر 80 فیٹ کردیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے عظیم ہوٹل سے چرچ گیٹ تک سڑک کو 80 فیٹ لکی اسٹار ہوٹل سے حافظ بابا نگر تک سڑک کو 40 سے 60 فیٹ بنگلور ہائی وے سے شاستری پورم جنکشن سے انجن باولی تک کی سڑک 100 فیٹ چوڑا کرنے کی منظوری دی ہے ۔ حکومت نے ان تمام 5 اہم کاموں کے لیے ایک ساتھ ٹنڈر طلب کرنے کا عمل شروع کرنے کا حکم دیا ہے ۔ جس سے چندرائن گٹہ ، حافظ بابا نگر ، شاستری پورم اور انجن باولی جیسے گنجان آبادی والے علاقوں کے لائف لائن سڑکوں کا نقشہ بدل جائے گا ۔۔ 2/m/b