دو اسمبلی حلقوں میں اثر ، مقامی سیاسی جماعت کی سرپرستی، سونا اور چوڑیوں کے تاجر بھی گاہک
حیدرآباد۔ کورونا وباء نے ایک طرف عام آدمی کو پریشان کررکھا ہے لیکن پرانے شہر میں ایک فینانسر کی موت سے سیاسی و پولیس حلقوں میں ہلچل پائی جاتی ہے۔ ویسے تو پرانے شہر میں فینانسرس کی سرگرمیوں اور غریبوں پر مظالم سے ہر کوئی واقف ہے۔ سیاسی اور پولیس کی سرپرستی میں یہ سرگرمیاں زیادہ تر ساؤتھ زون میں ہیں۔ فینانسروں کے سیاستدانوں اور پولیس عہدیداروں سے قریبی روابط کے نتیجہ میں ان کے خلاف شکایت کرنے سے لوگ خوفزدہ ہیں۔ ساؤتھ زون میں سرگرمیوں کیلئے مشہور ایک فینانسر کی گذشتہ دنوں کورونا سے موت واقع ہوگئی۔ فینانسر کی موت سے اس کاروبار میں شریک ان کے حواری بے یارومددگار ہوگئے تو دوسری طرف سیاسی اور پولیس حلقوں میں بھی غیر معمولی صدمہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس کی وجہ فینانسر سے ملنے والے فوائد ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فینانسر چارمینار و یاقوت پورہ اسمبلی حلقوں میں اپنی سرگرمیوں کا سکہ جما چکا تھا اور دیگر تمام چھوٹے فینانسر اس کے تحت کام کرتے تھے۔ دونوں حلقہ جات جو ساؤتھ زون کے تحت آتے ہیں وہاں پولیس کے جو اعلیٰ عہدیدار فائز ہوتے اُن سے فینانسر کے غیر معمولی روابط ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ساؤتھ زون کے تقریباً ہر پولیس اسٹیشن میں اس شخص کی ہوا چلتی تھی۔ ہر پولیس اسٹیشن میں کسی معاملہ میں سفارش ہو یا پھر سٹیلمنٹ فینانسر کی مداخلت سے بآسانی کام ہوجاتا تھا۔
مقامی جماعت کے قائدین اور ارکان اسمبلی سے قریبی روابط کے نتیجہ میں انتخابات کے موقع پر دو اسمبلی حلقہ جات کی ذمہ داری فینانسر کے تحت ہوتی تھی اور وہ مخالفین کی سرگرمیوں کو کچلنے میں اہم رول ادا کرتا تھا۔ فینانسر کی موت نے مقامی جماعت کو سیاسی طور پر کمزور کردیا ہے اور انتخابات کے دوران سرگرمیوں کیلئے ایسا متبادل ملنا آسان نہیں ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ رکن پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی سے راست روابط کے نتیجہ میں مذکورہ شخص ہر حلقہ میں ناقابل تسخیر بن چکا تھا۔اراضی معاملات کے علاوہ دیگر معاملات کے سٹلمینٹس کیلئے اس شخص کو پولیس اور عوامی نمائندے استعمال کرتے رہے اور لاکھوں روپئے کا فائدہ بھی حاصل کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص کے رشتہ دار بھی فینانس کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور چارمینار تا پتھر گٹی چھوٹے تاجروں کے علاوہ لاڈ بازار کی چوڑیوں اور گلزار حوض کے سونا چاندی کے بیوپاریوں کو بھی لاکھوں روپئے فینانس کئے گئے تھے۔ 15 تا30 فیصد سود پر یہ کاروبار جاری تھا۔ اطلاعات کے مطابق بیرون ملک بھی سرمایہ کاری تھی۔ فینانسر کی موت نے اگرچہ چھوٹے فینانسرس کیلئے کاروبار کا موقع فراہم کردیا ہے لیکن اس کے قریبی افراد فینانس کے کاروبار سے متعلق تمام تفصیلات کے ساتھ دوبارہ سرگرم ہونے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ دونوں اسمبلی حلقوں میں نامی گرامی پہلوان بھی فینانسر کے زیر اثر تھے کیونکہ اسے مقامی جماعت کے ہائی کمان کی سرپرستی حاصل تھی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جب تک فینانسرس کو پولیس اور سیاستدانوں کی سرپرستی حاصل رہے گی وہ غریبوں کا خون چوستے رہیں گے۔ محض ایک فینانسر کی موت سے سیاسی اور پولیس حلقوں میں پیدا ہوا خلاء شاید ہی کوئی پُرکرسکے لیکن دونوں شعبہ جات کی صدمہ کی حالت پر عوام خود حیرت میں ہیں۔