کانگریس کی کامیابی پر ترقی ہوگی ، روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے ، محمد ولی اللہ سمیر
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد لوک سبھا کانگریس کے امیدوار محمد ولی اللہ سمیر نے پرانے شہر کی پسماندگی کے لیے مجلس قیادت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ 40 سال سے حیدرآباد لوک سبھا حلقہ پر مجلس کا قبضہ ہے لیکن پرانے شہر کی ترقی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے ۔ کانگریس کو کامیاب بنانے پر پرانے شہر کو ترقی دینے بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرنے کے علاوہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا اعلان کیا۔ انتخابی مہم کے دوران میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ ضلع حیدرآباد کانگریس کمیٹی کے صدر و امیدوار حیدرآباد لوک سبھا محمد ولی اللہ سمیر نے کہا کہ حیدرآباد لوک سبھا حلقہ کے عوام نے پہلے 20 سال اس حلقہ سے صلاح الدین اویسی اور ان کے بعد 20 تک موجودہ لوک سبھا حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کو کامیاب بنایا ۔ پھر بھی ریاست کے دوسرے لوک سبھا حلقوں کے بہ نسبت حیدرآباد لوک سبھا حلقہ ترقی سے محروم رہا ہے ۔ ریاست میں کانگریس کی حکومت ہے ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پرانے شہر کی ترقی بیروزگاری کے خاتمہ ، معاشی سرگرمیوں کو فروع دینے کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کی ہے اگر حیدرآباد کے عوام انہیں بھاری اکثریت سے کامیاب بناتے ہیں تو وہ حیدرآباد کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کرانے میں اہم رول ادا کریں گے ۔ محمد ولی اللہ سمیر نے کہا کہ چیف منسٹر نے پرانے شہر کو ترقی دینے کے لیے 50 ہزار کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کرانے کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ طویل عرصہ سے زیر التواء میٹرو لائن پراجکٹ کا بھی سنگ بنیاد رکھا ہے ۔ ایم جی بی ایس تا فلک نما تک 5.5 کلو میٹر تک میٹرو ریل چلانے کے لیے 2 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میٹرو ریل کے آغاز سے مقامی عوام کو ٹرانسپورٹ کی بہت بڑی سہولت فراہم ہوگی۔ اس کے علاوہ موسیٰ ندی کو لندن برج کی طرز پر ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس پر 40 تا 50 ہزار کروڑ روپئے کے مصارف ہوں گے ۔ اس پراجکٹ سے جہاں ٹورازم کو فروغ حاصل ہوگا ، ملازمتوں کے مواقع فراہم ہوں گے ۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ حکومت نے 6 کے منجملہ 5 ضمانتوں پر عمل کرنے کا آغاز کردیا ہے ۔ جس سے پرانے شہر کے عوام مستفید ہورہے ہیں ۔ مجلس اور بی جے پی صرف اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے پرانے شہر کی ترقی کو نظر انداز کررہے ہیں ۔ دونوں جماعتوں کو سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے ۔۔ 2