پرانے شہر کے نوجوان کو چندی گڑھ پولیس نے گرفتار کرلیا

   

سوشیل میڈیا پر متنازعہ ویڈیو شئیر کرنے کا الزام ۔ نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت

حیدرآباد 26 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ’تلگو اسکرائب ‘ نامی ٹوئیٹر کھاتہ کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کرکے تفصیلات کے حصول کے بعد اب سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے مسلم نوجوانوں کو بھی دیگر ریاستوں کی پولیس گرفتار کرنے لگی ہے۔ چندی گڑھ پولیس نے وزیر اعظم کے خلاف X پر پوسٹ کے الزام میں پرانے شہر سے نوجوان کو گرفتار کرکے چندی گڑھ منتقل کردیا ۔تلنگانہ میں مسلم نوجوانو ںکو سوشل میڈیا کے استعمال میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی پوسٹ پر خصوصی نظر رکھ کر کاروائیاں کی جانے لگی ہیں ۔ گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی ایک ویڈیو جسے سرکردہ ٹوئیٹر کھاتوں کے ذریعہ بھی شیئر کیاجاچکا ہے اس کو شیئر کرنے پر شہر کے ایک نوجوان کو چندی گڑھ پولیس نے حراست میں لے کر چندی گڑھ منتقل کردیا ہے۔ گذشتہ ہفتہ وزیر اعظم مودی کی طرح ایک شخص کے چہرے کے مساج کی ویڈیو جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل تھی اس کی چندی گڑھ میں شکایت کی بنیاد پر کئی سرکردہ شخصیات کو نوٹس جاری کی گئی تھی اور جواب طلب کیا گیا تھا لیکن شہرکے مسلم نوجوان کو گرفتار کرکے چندی گڑھ منتقل کردیا گیا ۔ چندی گڑھ پولیس نے کل شب مذکورہ شخص کے مکان پہنچ کر ان کے بھائی کو نوٹس حوالہ کی اور بتایا گیا کہ ان کے بھائی کے ٹوئیٹر سے وزیر اعظم کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق گرفتار نوجوان کو اتوار کی صبح چندی گڑھ منتقل کردیا گیا جہاں انہیں جج کے روبرو پیش کیا جائیگا۔ایف آئی آر نمبر 44 میں حیدرآبادی نوجوان کوBNSSکی دفعات 196‘ 356‘336(4)‘ 353‘336(1) ‘ 336(3)‘ 340 ‘318 کے علاوہ آئی ٹی ایکٹ 2000 کے سیکشن 66(C) & D کے تحت مقدمات درج کرکے گرفتار کیاگیا ۔ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ پولیس کو اس مقدمہ میں مذکورہ شخص کو قوانین کے مطابق سیکشن47 اور سابق CrPc 41یا 41Aکے تحت نوٹس دینی چاہئے لیکن چندی گڑھ پولیس نے ایسا نہیں کیا ۔3