پرچوں کے افشاء کے خلاف آج ریونت ریڈی کا ایک روزہ دھرنا

   

کل گورنر سے ملاقات، کے ٹی آر کو کابینہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ

حیدرآباد ۔ 18 مارچ (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی نے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے پرچوں کے افشاء کی سخت مذمت کرتے ہوئے سی بی آئی یا برسرخدمات جج کے ذریعہ اس کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے خلاف اتوار کو اسمبلی حلقہ یلاریڈی میں صبح 10 تا شام 5 بجے ایک روزہ احتجاجی دھرنا منظم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسمبلی حلقہ کاماریڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر کانگریس کے سینئر قائد سابق وزیر محمد علی شبیر، ملوروی کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ پہلے امتحانی پرچوں کے افشاء کو ہنی ٹراپ قرار دیا گیا۔ دوسری مرتبہ اس کو ہائیکنگ پھر اس کے بعد افشاء قرار دیا جارہا ہے۔ اس کے بعد کئی حقائق منظرعام پر آتے ہی امتحانات کو منسوخ کردینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ریاستی وزیر کے ٹی آر ایک ملزم کو بی جے پی کا سرگرم کارکن قرار دے رہے ہیں۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے دوسرے ملزم کو بی آر ایس کا حامی قرار دے رہے ہیں۔ بی آر ایس اور بی جے پی نے مل کر لاکھوں نوجوانوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا ہے۔ دونوں جماعتیں سزاء کی مستحق ہیں۔ نوجوانوں اور بیروزگار نوجوانوں کو تازہ حالات سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی ان کے ساتھ ہے۔ کانگریس پارٹی نے ملازمتیں، پانی اور فنڈز کے نعرے سے متاثر ہوکر علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی تھی لیکن چیف منسٹر کے سی آر نے اپنے ارکان خاندان کو سیاسی روزگار فراہم کرتے ہوئے لاکھوں بیروزگار نوجوانوں کو فراموش کردیا ہے۔ بی آر ایس کو ملک میں توسیع دینے کیلئے تلنگانہ ماڈل کا نعرہ دیا جارہا ہے۔ تلنگانہ ماڈل کا مطلب کم از کم گورننس زیادہ سے زیادہ سیاست ہونے کا دعویٰ کیا۔ن