پنجاب : سیلاب سے تاحال 37 ہلاک

   

چندی گڑھ ۔ 4 ؍ ستمبر ( ایجنسیز ) پنجاب بدترین سیلاب کا سامنا کر رہا ہے۔ شدید بارشوں اور ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر سے چھوڑے جانے والے پانی کی وجہ سے ریاست کے بڑے دریا ستلج، بیاس اور راوی میں تیزی آ گئی ہے۔ خبروں کے مطابق سیلاب میں اب تک 37 افراد ہلاک اور3.5 لاکھ سے زیادہ افرادمتاثر ہوئے ہیں۔ ریاست کے تمام اضلاع سیلاب کی زد میں ہیں۔پنجاب میں سیلاب سے 1.48 لاکھ ہیکٹر سے زائد کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔
کسانوں کو مویشیوں کے نقصان کا بھی سامنا ہے۔ کئی مکانات زمین بوس ہو چکے ہی پانی سے بہہ گئے ہیں۔ کئی علاقوں میں کھیت تالاب اور جھیلوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔گرداس پور، پٹھانکوٹ، فاضلکا، کپورتھلا، ترن تارن، فیروز پور، ہوشیار پور اور امرتسر سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں۔ انتظامیہ نے کئی امدادی کیمپ قائم کیے ہیں لیکن بہت سے لوگ اب بھی اپنے مویشیوں اور گھروں کے قریب چھتوں یا اونچے چبوتروں پر ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔ مختلف پنجاب کے فنکاروں اور سماجی تنظیموں نے بھی مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے۔کئی این جی اوز اور سکھ تنظیمیں سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔ ریاست کے تمام اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں 7 ستمبر تک بند کردی گئی ہیں۔ ساتھ ہی بھاکڑا ڈیم میں پانی کی سطح 1677.84 فٹ تک پہنچ گئی ہے، جو 1680 فٹ کی زیادہ سے زیادہ گنجائش کے بالکل قریب ہے۔

ہماچل پردیش میں موسلادھار بارش
کا قہر، امتحانات منسوخ
شملہ، 4 ستمبر (یو این آئی) ہماچل پردیش میں مانسون کی شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے بڑے پیمانے پر جان و مال کا نقصان ہوا ہے ۔ وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے کہا کہ خراب موسم کی وجہ سے ہیلی کاپٹر کی پروازوں میں تاخیر ہوئی ہے۔ صورتحال بہتر ہوتے ہی ریسکیو آپریشن بحال کیا جائے گا۔ انھوں نے پولیس بھرتیوں کے انٹرویو کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ پہلے ہی کئی امتحانات منسوخ کئے جاچکے ہیں۔