نئی دہلی : نئے نام اور طاقتور ٹیم کے ساتھ پنجاب کنگس اُمید کررہی ہے کہ اِس مرتبہ اِس کی قسمت کا ستارہ چمکے گا اور وہ پہلی مرتبہ آئی پی ایل ٹروفی حاصل کرے گی۔ پنجاب کنگس نے اپنا نام اور لوگو تبدیل کرنے کے علاوہ اننگز کے اختتامی اوورس میں اِسے درپیش مسائل کو بھی ختم کرنے کے علاوہ مڈل آرڈر کو بھی مضبوط بنایا ہے۔ پنجاب کنگس نے گزشتہ برس متحدہ عرب امارات میں منعقدہ سیزن کا چھٹے مقام کے ساتھ اختتام کیا تھا اور وہ قریبی ناکامی کی وجہ سے پلے آف (س) سے محروم ہوئی تھی حالانکہ اِس نے ناقص شروعات کے بعد متواتر 5 فتوحات کے ساتھ شاندار واپسی کی تھی۔ پنجاب کنگس کو اُن مقابلوں میں شکست ہوئی تھی جہاں اِسے آسانی سے کامیابی حاصل کرنی تھی نیز دہلی کیپٹلس کے خلاف ایک متنازعہ شارٹ رن کا فیصلہ بھی اِس ٹیم کے خلاف ہوا جس کی وجہ سے وہ پلے آف میں رسائی حاصل نہ کرپائی۔ پنجاب کنگس کے پاس اِس وقت ایک طاقتور بیاٹنگ شعبہ ہے جس کے پاس انتہائی خطرناک اوپننگ جوڑی کپتان کے ایل راہول اور مینک اگروال پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سیزن راہول نے سب سے زیادہ رنز بناتے ہوئے آرنج کیاپ حاصل کیا تھا۔ محمد سمیع کے زخمی ہونے اور گلین میکسویل کے ٹیم سے منتقل ہونے کا بھی رواں سیزن اِس سے زیادہ نقصان نہیں ہوگا کیوں کہ اس نے ان کے بہتر متبادل کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔ بیاٹنگ میں اوپننگ جوڑی کے علاوہ یونیورسل باس کریس گیل بھی موجود ہیں جنھوں نے گزشتہ سیزن صرف 7 مقابلوں میں 137.14 کے اوسط سے 288 رنز بنائے تھے۔ گزشتہ سیزن انھیں سیزن کے ابتداء میں موقع نہیں ملا تھا لیکن 2021 ء سیزن میں اِن کے مکمل مقابلوں میں شرکت کی اُمید ہے۔ علاوہ ازیں وکٹ کیپر بیٹسمین نیکولاس پورن بھی ٹیم میں موجود ہیں جو انتہائی برق رفتار بیاٹنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پنجاب نے اِس مرتبہ ٹی 20 کے عالمی نمبر ایک انگلش بیٹسمین ڈیوڈ میلان کو بھی اپنی صف میں شامل کرلیا ہے۔ میکس ویل کے ٹیم سے باہر ہوجانے کے بعد مڈل آرڈر میں آل راؤنڈر موسیس ہینرکس کے علاوہ ٹاملناڈو کے اُبھرتے نوجوان بیٹسمین شاہ رُخ خان بھی موجود ہیں۔ ٹیم میں شاہ رُخ خان کی شمولیت پر پریتی زنٹا نے خوشی کا اظہار کیا تھا کیوں کہ بالی ووڈ فلموں میں پریتی زنٹا نے اسٹار اداکار شاہ رُخ خان کے ساتھ کئی کامیاب فلمیں کی ہیں اور انھیں اُمید ہے کہ نوجوان بیٹسمین کی آمد سے ٹیم کا مڈل آرڈر کامیابی کی سمت گامزن ہوگا۔ دیپک ہوڈا کا تجربہ ٹیم کو ایک فنیشر فراہم کرسکتا ہے جبکہ پنجاب کنگس کو فیبیان ایلن کے خدمات دستیاب ہیں۔ پنجاب کنگس کی کمزوری اِس کے اسپن شعبہ میں معیاری بولر کا نہ ہونا ہے جیسا کہ اِس نے آف اسپنر کے گوتم کو باہر کا راستہ دکھایا تھا لیکن وہ کھلاڑیوں کی نیلامی کے دوران سب سے مہنگے بولر ثابت ہوئے۔ مورگن اشون اور نوجوان روی بشنوئی نے گزشتہ سیزن متاثرکن مظاہرے کئے تھے اور اِن سے اِس سال بھی بہتر مظاہرے کی اُمید ہے۔ علاوہ ازیں جلج سکسینہ جنھوں نے سید مشتاق علی ٹروفی نے 6.26 کی اوسط سے 10 وکٹیں حاصل کی ہیں لیکن کوئی بین الاقوامی اسپنر نہ ہونا اِس کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ پنجاب کے لئے اِس سال موقع ہے کہ وہ اپنی طاقتور ٹیم اور بہتر شروعات کے ذریعہ پہلی مرتبہ آئی پی ایل کا خطاب حاصل کرے۔یاد رہے کہ انگلینڈ کے خلاف حالیہ منعقدہ ونڈے سیریز میں راہول نے سنچری اسکور کرتے ہوئے اپنے فام کو حاصل کرلیا ہے ۔