اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے شیڈول طے کرلیا، بی سی تحفظات کو قطعیت دیئے جانے کا انتظار
حیدرآباد۔ 16 جولائی (سیاست نیوز) پنچایت راج اداروں کے انتخابات 30 ستمبر تک مکمل کرنے کی تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے ہدایت کے بعد اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی نشستوں کے لئے انتخابات کا امکان ہے۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے 5 مراحل میں رائے دہی کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ کمیشن نے 5 مراحل کے اعتبار سے انتخابی شیڈول کو طے کیا ہے جو حکومت کی جانب سے بی سی تحفظات کو قطعیت دیئے جانے کے بعد جاری کیا جاسکتا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے بی سی تحفظات کے تعین کے لئے حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دی ہے۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن کے مطابق مانسون اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے کمیشن نے شیڈول کو قطعیت دی ہے۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے ضلع نظم و نسق کو بھی تیاریوں کے سلسلہ میں چوکس کردیا ہے۔ 2019 میں پنچایت راج اداروں کے انتخابات 3 مراحل میں منعقد کئے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت کی صورتحال کے مطابق 3 مراحل کا شیڈول تیار کیا گیا تھا تاہم اس مرتبہ مانسون کا اہم مسئلہ ہے جس کے پیش نظر کمیشن نے تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عام طور پر مانسون اختتامی مرحلہ میں ریاست بھر میں شدت اختیار کرسکتا ہے لہذا انتخابی مہم اور رائے دہی میں کسی بھی رکاوٹ کے اندیشوں کا اسٹیٹ الیکشن کمیشن جائزہ لے رہا ہے۔ کمیشن نے حلقہ جات کی حد بندی کے علاوہ فہرست رائے دہندگان کی تیاری پر توجہ مرکوز کی ہے۔ کمیشن کے تیار کردہ شیڈول کے مطابق ایک مرحلہ کی رائے دہی کی تکمیل کے بعد دو یا تین دن کا وقفہ رہے گا اور دوسرے مرحلہ کی رائے دہی ہوگی۔ الیکشن اسٹاف اور سیکوریٹی فورسیس کو مختلف اضلاع منتقل کرنے کے لئے رائے دہی کے درمیان وقفہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 2019 میں رائے دہی کے درمیان 4 دن کا وقفہ دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ الیکشن کمیشن 2 یا 3 دن کے وقفہ پر غور کررہا ہے۔ حکومت کی جانب سے تحفظات کو قطعیت دیئے جانے کے بعد اسٹیٹ الیکشن کمیشن کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں انتخابی شیڈول کو قطعیت دی جائے گی۔ ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی نشستوں کے بعد سرپنچوں کے عہدہ کے لئے انتخابات ہوں گے۔ دوسری طرف حکومت نے ضلع کلکٹرس کو مجالس مقامی انتخابات کی تیاریوں کے سلسلہ میں چوکسی کی ہدایت دی ہے۔ حکومت نے پنچایت راج قانون 2018 میں ترمیم کرتے ہوئے بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات کی فراہمی سے متعلق آرڈیننس گورنر جشنودیوورما کی منظوری کے لئے روانہ کیا ہے۔ تمام کی نظریں راج بھون پر ہیں اور دیکھنا ہے کہ گورنر بی سی تحفظات کے آرڈیننس پر کیا فیصلہ کریں گے۔ 1