چینائی: مدراس ہائی کورٹ نے لوک سبھا انتخابات سے قبل اے آئی اے ڈی ایم کے کے معزول لیڈر او پنیر سیلوم کو پارٹی کے جھنڈے ، ’دو پتیاں‘ کے نشان اور سرکاری لیٹر ہیڈ کے استعمال سے روک دیا ہے ۔ جسٹس این ستیش کمار نے ایک اور عبوری حکم امتناعی منظور کرتے ہوئے پنیرسیلوم کو انا ڈی ایم کے کے کوآرڈینیٹر یا پرائمری ممبر ہونے کا دعویٰ کرنے سے بھی روک دیا، جہاں سے انہیں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے پارٹی کی جنرل کونسل میٹنگ میں نکال دیا گیا تھا۔ جج نے انہیں انا ڈی ایم کے جنرل سکریٹری ایڈاپڈی کے پلانی سوامی کے کام کاج میں مداخلت کرنے سے بھی روک دیا، جب تک کہ برخاست لیڈر کیخلاف مستقل حکم امتناعی کا مطالبہ کرتے ہوئے ستمبر 2023 میں ان کی طرف سے دائر کردہ ایک دیوانی مقدمہ کا تصفیہ نہیں ہوجاتا۔ جج نے کے گوتم کمار کی مدد سے سینئر وکیل وجے نارائن سے اتفاق کیا کہ اگرنکالے گئے لیڈر کو خاص طور پر خود کو پارٹی لیڈر کے طور پر پیش کرنے سے نہیں روکا گیا تو آئندہ لوک سبھا انتخابات کے دوران پارٹی کارکنوں میں الجھن کی وجہ سے پلانی سوامی کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
جج نے کہا کہ پوری بحث سے ، یہ عدالت مطمئن ہے کہ پہلی نظر میں کیس اور سہولت کا توازن درخواست گزار/مدعی ( پلانی سوامی) کے حق میں ہے ۔ اس عدالت کی پختہ رائے ہے کہ اگر مدعا علیہ ( پنیر سیلوم) پر مدعی کے مطالبہ کے مطابق روک نہیں لگائی گئی تو اس سے الجھن پیدا ہوگی اور مقدمہ خود اکیڈمی ہوجائے گا۔
پنیرسیلوم نے تاہم دلیل دی کہ انہوں نے پارٹی سے اپنے اخراج کو چیلنج کرتے ہوئے ایک دیوانی مقدمہ دائر کیا ہے اور یہ مقدمہ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے ۔
جج نے کہا کہ محض اخراج کی کارروائی کو چیلنج کرنا پارٹی کے معاملات میں مسلسل مداخلت کا جواز نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پنیرسیلوم خود کو اپنے دھڑے یا کسی دوسری باڈی کا کوآرڈینیٹر کہہ سکتے ہیں، لیکن وہ خود کو اے آئی اے ڈی ایم کے کا کوآرڈینیٹر نہیں کہہ سکتے ، جو کہ ایک تسلیم شدہ سیاسی جماعت ہے ، جس سے انہیں ایک قرارداد پاس کرکے جنرل کونسل کے اجلاس سے نکال دیا گیاتھا۔
جج نے کہا کہ بے دخلی کے بعد بھی پارٹی قیادت پر ان کا دعویٰ، یقیناً پارٹی کارکنوں میں انتشار پیدا کرنے کے سنگین نتائج کا باعث بنے گا اور عدالت کی جانب سے عبوری حکم امتناعی دینے میں ناکامی انہیں نکالنے کے لئے پارٹی کی طرف سے منظور کردہ قرارداد کے بنیادی مقصد کو ناکام بنادے گی۔