آگرہ: ایس پی رکن راجیہ سبھا رام جی لال سمن کے رانا سانگا کے حوالے سے راجیہ سبھا میں کئے گئے تبصرہ کے سلسلے میں گرمائی ذات پات کی سیاست کو اپنے ذاتی مفاد کیلئے گرمائے رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ایک جانب کرنی سینا سمیت کئی چھتری تنظیمیں سمن کے خلاف صف آراء ہیں اور حکمراں جماعت بی جے پی کا بھی انہیں بالواسطہ طور سے حمایت نظر آتی ہے تو دوسری جانب ایس پی کو بھی اس تنازعہ میں سیاسی فائدہ نظر آرہا ہے ۔
پارٹی کو لگتا ہے کہ اس تنازع کو ہوا دے کر ووٹروں کا پولرائزیشن کیا جاسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جانب سے تنازع کو ٹھنڈا نہ پڑنے دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کرنی سینا نے گذشتہ 26 مارچ کو ایس پی ایم پی رام جی لال سمن کی رہائش گاہ پر ترتشدد مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد گذشتہ دس اپریل کو ضلع میں لاکھوں لوگوں کے ساتھ ریلی کر کے چھتری سماج کے ذریعہ مظاہرہ کیا جاچکا ہے ۔
ریلی کے دوران دبی آواز میں بیان دے رہے رام جی لال سمن کے تیور پھر سخت ہوگئے ۔