پولیس تقررات میں ٹرانسجینڈرس کیدرخواستوں کو قبول کرنے ہائی کورٹ کی ہدایت

   

حیدرآباد۔9۔ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے پولیس تقررات کے سلسلہ میں ٹرانسجینڈرس کی درخواستوں کو قبول کرنے کی تلنگانہ اسٹیٹ لیول پولیس رکروٹمنٹ بورڈ کو ہدایت دی ہے ۔ پولیس کانسٹبلس اور سب انسپکٹرس کی جائیدادوں پر تقررات کی جاریہ مہم میں رکروٹمنٹ پورٹل پر درخواستوں کے لئے ٹرانسجینڈر کا زمرہ شامل نہیں ہیں۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے ٹرانسجینڈرس کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کی جس میں رکروٹمنٹ پورٹل پر صرف دو زمرہ جات مرد اور عورت کو شامل کرنے کے فیصلہ کو چیلنج کیا گیا۔ درخواست گزاروں نے ٹرانسجینڈر زمرہ کو شامل کرنے کی درخواست کی ۔ عدالت نے حکومت سے استفسار کیا کہ زمرہ جات کے سلسلہ میں مختلف محکمہ جات کو گائیڈ لائینس جاری کیوں نہیں کی گئیں؟ اس سلسلہ میں حکومت کو جواب داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے 16 ستمبر کو آئندہ سماعت مقرر کی گئی ہے۔ پولیس رکروٹمنٹ بورڈ نے 5000 جائیدادوں پر تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کیا ہے۔ پولیس رکروٹمنٹ بورڈ کے وکیل راج شیکھر ریڈی نے عدالت کو بتایا کہ درخواستوں کے ادخال کی آخری تاریخ میں 16 ستمبر تک توسیع کی گئی ہے۔ عدالت نے رکروٹمنٹ بورڈ کو ہدایت دی کہ آن لائین پورٹل پر ٹرانسجینڈر کی درخواستیں قبول کریں۔1/k

خاتون ارکان اسمبلی کے ساتھ نازیبا سلوک، ہائیکوٹ کا فیصلہ محفوظ

حیدرآباد۔9۔ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ کی جسٹس ٹی مادھو دیوی نے اسمبلی احاطہ میں بی آر ایس خاتون ارکان اسمبلی کے ساتھ نازیبا سلوک کے مسئلہ پر درخواست کی سماعت کو مکمل کی اور جلد ہی فیصلہ سنانے کا تیقن دیا۔ جسٹس مادھوی دیوی نے نازیبا سلوک کے ذمہ دار پولیس عہدیداروں کیخلاف کارروائی کی حکومت کو ہدایت دی تھی۔ ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی نے خصوصی درخواست پیش کرتے ہوئے پولیس عہدیداروں کیخلاف احکامات میں ترمیم کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے چیف مارشل کی ہدایت پر پولیس نے ارکان اسمبلی کو روکا اور اس معاملہ میں پولیس کا کوئی قصور نہیں ہے ۔ اسمبلی قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ ہنگامی حالات میں ضرورت پڑنے پر چیف مارشل ایوان کی کارروائی کو بہتر انداز میں جاری رکھنے پولیس سے مدد لے سکتے ہیں۔ بی آر ایس نے جو تصاویر پیش کی ہیں وہ یکطرفہ ہیں۔ درخواست گزاروں کے وکیل جی موہن راؤ نے فیصلہ میں ترمیم کی مخالفت کی اور خاطی پولیس عہدیداروں کیخلاف کارروائی کی درخواست کی ۔ سماعت کے موقع پر جسٹس مادھوی دیوی نے سوال کیا کہ پولیس کی جانب سے خواتین بالخصوص خاتون ارکان اسمبلی کے احترام کا کیا یہی طریقہ ہے ؟ جسٹس مادھوی دیوی نے کہا کہ محض سیاہ رنگ کی ساڑیاں پہننے پر انہیں اسمبلی میں داخلہ سے روک دیا گیا جبکہ وہ کوئی نعرے نہیں لگا رہے تھے۔ انہوں نے چیف مارشل کی جانب سے پولیس کو دی گئی ہدایت کی تفصیلات پیش طلب کیں۔ ایڈوکیٹ جنرل نے وکیٹ پٹیشن دائر کرتے ہوئے پیر کے دن کے احکامات میں ترمیم کی اپیل کی ۔ فریقین کی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کردیا۔ 1/k