اسمارٹ ورک اور ہارڈورک سے کامیابی ممکن، جناب اے کے خان اور جناب ظہیرالدین علی خان کا دفتر سیاست میں خطاب
حیدرآباد 22 مئی (سیاست نیوز) سرکاری ملازمت کی اہمیت اور افادیت بتاتے ہوئے مسٹر اے کے خان آئی پی ایس مشیر حکومت تلنگانہ نے یہاں دفتر سیاست کے محبوب حسین جگر ہال میں پولیس ٹریننگ پروگرام کے امیدواروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ سب سے پہلے ایک مستقل ملازمت ہے اور تنخواہیں بھی پُرکشش ہیں اور مراعات بھی حاصل ہیں جبکہ خانگی شعبہ میں ملازمت غیر یقینی ہوتی ہے۔ اُنھوں نے محکمہ پولیس میں ملازمت سے جو سب سے بڑا فائدہ دوسروں کی مدد ہے۔ پولیس کانسٹبلس کی تنخواہیں بھی آج پُرکشش ہیں۔ 40 ہزار سے زیادہ ماہانہ یافت سے آغاز ہوتا ہے اور اس میں اضافہ کے ساتھ ترقی کے بھی کافی مواقع ہیں۔ ایک کانسٹبل سے تقرر ہوکر جوان، ایس آئی اور ڈی ایس پی / اے سی پی تک ترقی کرسکتا ہے۔ مسٹر اے کے خان نے مزید کہاکہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب روز بروز گھٹ رہا ہے۔ محکمہ پولیس میں انسپکٹرس سے کانسٹبل تک سابق میں جو مسلم ملازمین ہوتے تھے آج ان کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے۔ آج حصول ملازمت کا جو طریقہ کار اور اُصول و ضوابط بنائے گئے وہ بالکل شفاف ہیں۔ اس میں کوئی سفارش یا کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے۔ ایک بڑا پولیس عہدیدار ایک کانسٹبل کا تقرر نہیں کرسکتا ہے جو امتحانات کے مرحلے رکھے گئے ہیں ان پر عمل آوری کرنا ہوگا۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ آج کا دور نالج کا ہے حکومت بھی معلومات رکھنے والے کو ہی موقع دے رہی ہے۔ سرکاری ملازمت کے بہترین مواقع ہیں۔ مسلمانوں کی حالت پر کہاکہ ہم مسلمان کو پسماندہ یا پچھڑے ہوئے نہیں کہہ سکتے، ہمارے معاشرہ میں دانشوروں کو اور اعلیٰ بااثر حضرات کی کمی نہیں ہے۔ اگر کمی ہے اور پسماندہ ہے تو معاشی اور تعلیمی طور پر پسماندہ ہیں۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اُبھارنے کی ان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ پولیس کانسٹبل کے ساتھ سب انسپکٹر اور دیگر محکمہ جات کے لئے فارم داخل کریں۔ ہزارہا پولیس ملازمین کے تقررات سنہرا موقع ہے اور آئندہ سات آٹھ برسوں تک امکان نہیں اس لئے اس سنہری موقع سے بھرپور استفادہ کی ضرورت ہے۔ سرکاری عہدیدار صرف پیسے کمانے کے لئے نہیں ہوتا بلکہ سوسائٹی کی مدد کے لئے ہوتا ہے۔ اُنھوں نے اپنے فرزند کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ ان کے لڑکے کو گوگل میں 1.96 کروڑ پیاکیج کی ملازمت ملی لیکن انھوں نے سیول سرویس کے لئے تیار کیا اور اب وہ آئی اے ایس بن کر ڈسٹرکٹ کلکٹر کے عہدہ پر فائز رہتے ہوئے جو اختیارات اُٹھارہا ہے وہ تنخواہ سے کئی درجہ بہتر ہے۔ امتیاز برتنے اور تعصب کے بارے میں کہاکہ میرٹ کا کوئی متبادل نہیں۔ اسمارٹ ورک ہارڈ ورک کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنا ہوگا۔ آج کل کا دور نئے عصری تقاضوں کا ہے اس کو پورا کرنا چاہئے۔ مسابقتی امتحان مقابلہ کا ہوتا ہے اور مقابلہ صرف 5 تا 10 فیصد امیدواروں کے درمیان ہی ہوتا ہے۔ اُنھوں نے مقابلہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا مشورہ دیا۔ پولیس ٹریننگ حاصل کرنے والے طلبہ کو پہلے تحریری امتحان کی تیاری کرنے اور ساتھ ہی فزیکل ٹریننگ بھی حاصل کریں۔ 26 مئی آخری تاریخ ہے۔ عابد علی خاں سنچری ہال احاطہ سیاست میں منعقدہ اس پروگرام میں شہر کے علاوہ اضلاع سے بے شمار امیدواروں نے شرکت کی۔ جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر سیاست نے صدارت کی اور کوچنگ کلاسیس کے آغاز کیا جارہا ہے۔ ایم اے حمید کیرئیر کونسلر نے نظامت کے فرائض انجام دیئے اور امتحانی پرچے کی تفصیلات بتائی۔ پروگرام کے آخر میں مسٹر اے کے خان نے سوالات کے تشفی بخش جواب دیا۔ اس موقع پر احمد بشیرالدین فاروقی، ڈاکٹر ناظم علی موجود تھے۔ سید خالد محی الدین اسد اور طاہر پاشاہ قادری شاکر نے معاونت کی۔