پولیس کاجموں و کشمیر کی جنگجو تنظیم کا بھرتی ماڈیول تباہ کرنے کا دعویٰ

   

تحریک المجاہدین کیخلاف کارروائی ، بلال احمد ڈار گرفتار۔ مختلف دیہات میں ملی ٹنٹ فنڈنگ اور بھرتی سرگرمیوں کا انکشاف

سری نگر: جموں وکشمیر پولیس نے شمالی کشمیر میں تحریک المجاہدین جموں و کشمیر نامی جنگجو تنظیم کے جنگجو بھرتی اور فنڈنگ ماڈیول کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ایک پولیس ترجمان نے اپنے ایک بیان میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور فوج کی 21 اور47 آر آر کی ایک مشترکہ ٹیم نے بلال احمد ڈار ساکن چیر کوٹ کپوارہ کو گرفتار کرکے ملی ٹننٹ فنڈنگ اور بھرتی کے ایک ماڈیول کو تباہ کیا۔انہوں نے کہا: ‘پولیس اور فوج نے کپوارہ کے نٹنسو اور لولاب علاقوں میں مشترکہ طور پر آپریشن شروع کرکے اس کو گرفتار کیا۔ان کا بیان میں کہنا تھا: ‘پوچھ تاچھ کے دوران گرفتار شدہ نے انکشاف کیا کہ وہ شمالی کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے دیگر پانچ افراد کے ساتھ مل کر اصلاحی فلاحی ریلیف ٹرسٹ کے نامی ایک جعلی این جی او کے تحت (ملی ٹنٹ) فنڈنگ ریکٹ چلا رہے تھے ، یہ ٹرسٹ غریب اور حاجت مند کنبوں کو مالی مدد فراہم کرنے کا دعویٰ کرتا تھا۔موصوف ترجمان نے کہا کہ وہ (بلال احمد) مختلف دیہات میں اجتماعوں کا اہتمام کرکے ملی ٹنٹ فنڈنگ اور بھرتی سرگرمیاں انجام دیتا تھا اور این جی او کے دیگر ممبران کے ساتھ مل کر نوجوانوں کو ملک مخالف سر گرمیوں کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ بلال نے اپنے دیگر ساتھیوں کی شناخت واحد احمد بٹ ساکن کچلو لنگیٹ اور جاوید احمد نجار ساکن سنگھ پورہ بارہمولہ جبکہ دیگر تین افراد کی شناخت مشتاق احمد نجار ساکن براتھ سوپور، بشیر احمد میر ساکن منڈجی سوپور اور زبیر احمد ڈار ساکن چیر کوٹ بطور کی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ زبیر احمد، بلال احمد کا قریبی رشتہ دار ہے اور وہ بھی اس ماڈیول کا ایک سرگرم کارکن تھا۔بیان میں کہا گیا: ‘ماڈیول کو پاکستان نیشن ہینڈلرز چلا رہے تھے تاکہ شمالی کشمیر میں تحریک المجاہدین کے آپریشنز کی مدد کی جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ اس ماڈیول کا طریقہ کار یہ تھا کہ مختلف علاقوں میں جا کر وہاں این جی او کے نام پر اجتماع منعقد کرکے لوگوں سے صدقہ کے نام پر پیسہ وصول کرنا اور نوجوانوں کو بھرتی کے لئے منوانا تھا۔بیان کے مطابق این جی او کے نام کے بینک کھاتوں میں سے پیسے کو تحریک المجاہدین کے لئے استعمال کیا جا رہا تھا۔پولیس بیان میں کہا گیا: ‘ یہ گروپ 15 اگست اور مرکزی وزہر داخلہ کے دورہ بارہمولہ کے موقعے پر علاقے میں ملک مخالف پوسٹر چسپاں کرنے میں بھی ملوث ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلال احمد نے مرکزی جامع مسجد کپوارہ میں 14 اگست کو پاکستانی ہینڈلرز کی ہدایت پر پاکستانی پرچم لہرانے کو بھی تسلیم کیا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ گروپ دھماکہ خیز مواد بھی جمع کرتا تھا جس کو آئی ای ڈی بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔بیان میں کہا گیاکہ بلال احمد اور اس کے ساتھی سرحد پار ڈاکٹر شاہ صاحب عرف منظور شاہ عرف جنرل عبداللہ جس کا اصلی نام غلام رسول شاہ ساکن ہائیہامہ کپوارہ ہے ، طارق پیر جس کا اصلی نام محمد سلطان پیر ساکن سلکوٹ کپوارہ ہے ، وہ بھی پاکستان نیشن ایک ہینڈلر ہے اور یوسف بلوچ عرف قریشی سے ہدایات حاصل کرتے تھے ۔