پولیس کا نمازیوں پر تشدد، انسانیت و جمہوریت پر شدید حملہ

   

پرتاپ گڑھ: پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے دہلی میں پولیس کے ذریعہ نمازیوں پر کئے گئے تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں ایک مذہب کے لوگوں کو دوران نماز تشدد کا نشانہ بنایا جانا انسانیت پر شدید حملہ ہے ،ایسے پولیس اہلکاروں کی سزا معطلی نہیں، بلکہ انہیں برخاست کر ان کے خلاف سنگین دفعات میں ایف آئی آر درج کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے دہلی میں نمازیوں پر ہوئے تشدد کے ردعمل میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ آئین نے سبھی مذاہب کو اپنے اپنے مذہب پر عمل کی آزادی دی ہے ،مگر فسطائی طاقتوں سے متاثر متعصب پولیس اہلکاروں نے نماز کے دوران مسلمانوں کو لات مار کر انسانیت کو شرمسار کیا ہے ۔ پولیس کے ذریعہ لات مارتے ہوئے جو ویڈیو وائرل ہوئی اس سے پوری دنیا میں ہندوستان کے تئیں منفی پیغام گیا ہے ،کہ مذہبی آزادی پر قدغن لگایا جا رہا ،اس سے ملک کی مزید بدنامی ہوئی ہے ،اور ہمارے وزیر اعظم جو سب کا ساتھ سب کا وکاس کی بات کرتے ہیں ،وہ کیا جواب دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ وائرل ویڈیو سے واضح ہوا کہ سجدہ کے دوران نمازیوں کو لات مارنا و سجدے سے سر اٹھانے پر منہ پر گھونسہ مارنا شدید تشدد ہے ،ایسے پولیس اہلکاروں کو فولیس فورس میں رہنے کا کوئی حق نہیں رہ جاتا ہے ،ان پر سنگین دفعات میں ایف آئی آر درج کر مقدمہ چلانے کی ضرورت ہے ،تاکہ پھر کوئی ایسی حرکت کرنے کی جرت نہ کر سکے ۔یہ حد پار کر دینے والا واقعہ ہے ۔اگر پولیس کو سڑک پر نماز پڑھنے پر اعتراض تھا تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتی ،مگر پولیس نے قانون ہاتھ میں لے کر جو غیر قانونی حرکت کی ہے ،وہ قابل نامعافی ہے ، اس سے ملک کے مسلمانوں میں مزید اشتعال ہے ۔ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ جمہوریت و آئین کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لئے وزیر اعظم و وزیر داخلہ کے ذریعہ مداخلت کر نمازیوں کو لات مارنے والے قصوروار پولیس والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔