جادو پور یونیورسٹی
کیس
ایک اسٹوڈنٹ کی ہاسٹل کی بالکونی سے گرکرموت کے معاملے میں گرفتاریاں جاری
کولکاتا : پولیس کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں جادو پور یونیورسٹی کے سابق طالب علم جے دیپ گھوش کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ اس نے دعویٰ کیا کہ جس دن جادو پور یونیورسٹی میں طالب علم کی غیر فطری موت کا معاملہ سامنے آیا تھااس دن اسے یونیورسٹی آنے کے لئے کسی نے فون کیا تھا اسی وجہ سے وہ یونیورسٹی پہنچا تھا۔جادوپور یونیورسٹی کے ہاسٹل میں سال اول کے طالب علم کی غیر فطری موت کی رات جے دیپ کو کس نے بلایا؟ اسے کیوں بلایا گیا؟پولس اس معاملے کی جانچ کررہی ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق کچھ رہائشی طلباء جو اس رات ہاسٹل میں تھے انہیں جادو پور تھانے میں طلب کیا گیا ہے ۔ ان میں ہاسٹل کی اسی منزل کے رہائشی بھی شامل ہیں جہاں متوفی طالب علم رہتا تھا۔ ان میں سے کچھ نے دعویٰ کیا کہ وہ اس وقت میس کمیٹی کی میٹنگ میں موجود تھے ۔اس وقت معلوم ہوا کہ ایک طالب علم نیچے گرگیا ہے اور اسے اسپتال لے جایا گیا ہے ۔9 اگست کو مین ہاسٹل کے A-2 بلاک کی تیسری منزل کی بالکونی سے گر کر فرسٹ ایئر کا ایک طالب علم ہلاک ہو گیا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ مہلوک طالب علم ریگنگ کا شکار تھا۔ اس کی تفتیش کے تحت ایک کے بعد ایک گرفتاریاں جاری ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کے شعبہ کے سابق طالب علم جے دیپ کو اس رات پولیس کو ہاسٹل میں داخل ہونے سے روکنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق مین ہاسٹل کے ایک رہائشی نے اس رات تقریباً12:15پر جے دیپ کو فون کیا۔ لیکن کیوں؟ فون کرنے والے طالب علم نے بتایا کہ اس نے جے دیپ کو ایمبولنس لانے کے لئے فون کیا تھا۔حال ہی میں طالب علم کو آنکھ میں انفیکشن ہوا تھا۔ جے دیپ نے ہی ایمبولینس کا بندوبست کیاتھا۔ اس لئے اس واقعہ کی رات طالب علم کے موبائل فون سے جے دیپ کو کال کی گئی تھی۔ کم از کم یہی طالب علم کا دعویٰ ہے ۔طالب علم نے بتایا کہ وہ واقعہ والی میس کمیٹی کی میٹنگ میں تھا۔ شور سن کر اوپر گیا۔ وہاں جا کر پتہ چلا کہ ایک طالب علم بالکونی سے نیچے گرگیا ہے ۔ طالب علم نے بتایا کہ وہ جائے وقوعہ سے اپنے کمرے میں واپس جاکرجے دیپ کو فون کیا اور ایمبولینس لانے کو کہا۔لیکن یونیورسٹی کے ہاسٹل میں ایمبولینس کی سہولت موجود ہے ۔ طالب علم کا دعویٰ ہے کہ اسے اس کا علم نہیں تھا۔ کیونکہ جے دیپ نے پہلے بھی ایک بار اس کے لیے ایمبولینس کا انتظام کیا تھا، اس رات اس نے جے دیپ کو دوبارہ ایمبولینس کے لیے بلایا۔ معلوم ہوا ہے کہ جب ایمبولینس ہاسٹل پہنچا تو مہلوک طالب علم کو ٹیکسی کے ذریعے کے پی سی اسپتال لے جایا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ کی رات 12 بجے کے قریب دو لوگ جادو پور تھانے آئے ۔ انہوں نے اپنا تعارف یونیورسٹی کے طالب علم اور ہاسٹل کے رہائشی بتاتے ہوئے بتایا کہ تھوڑ دیر قبل ایک طالب علم بالکونی سے نیچے گرکر زخمی ہوگیا ہے ۔پولیس اہلکار ہاسٹل کے گیٹ پر گئے تو پتہ چلا کہ ایک شخص کو زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا ہے ۔