پونے میں سی اے اے کے خلاف احتجاج، اسمبلی سیشن کا مطالبہ

   

یووک کرانتی دل، پروفیشنل کانگریس، نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا، عام آدمی پارٹی و دیگر کا مظاہرہ

پونے ، 4 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) شہریت (ترمیمی) قانون
CAA اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس
NRC کے خلاف احتجاج آج یہاں کوتھروڈ علاقہ میں منظم کیا گیا۔ شہر کے دیگر مقامات پر بعض تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ حکومت مہاراشٹرا کو مقننہ کا خصوصی سیشن طلب کرتے ہوئے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف قرارداد منظور کرنا چاہئے۔ سی اے اے، این آر سی اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر NPR کو مسترد کرتے ہوئے پلے کارڈز تھامے ارکان یووک کرانتی دل، پروفیشنل کانگریس، نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا، عام آدمی پارٹی اور دیگر نے احتجاج میں حصہ لیا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ سی اے اے جو پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے غیرمسلم پناہ گزینوں کو شہریت کی پیشکش کرتا ہے، اسے منسوخ کیا جائے۔ یووک کرانتی دل کے ممبر سندیب باروے نے کہا کہ اس مظاہرہ کا اہتمام مخالف سی اے اے گروپ ’’وی دی پیپل آف انڈیا‘‘ کے بیانر تلے کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ سی اے اے کی مخالفت میں احتجاج جاری رہیں گے تاوقتیکہ حکومت اس ایکٹ کو منسوخ نہیں کردیتی۔ 500 تا 600 لوگوں نے اس احتجاج میں حصہ لیا۔

ایک اور احتجاجی پراوین سپتارشی نے دعویٰ کیا کہ بعض لوگوں نے سی اے اے پر احتجاجیوں کے ساتھ بحث شروع کرتے ہوئے ان کو مشتعل کرنے کی کوشش کی۔ ’’ہم اپنے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ مخالفین کے تبصروں سے مت بھڑکیں اور اپنا احتجاج پرامن انداز میں جاری رکھیں۔‘‘ مولنیواسی مسلم منچ کی سرپرستی میں بھی کئی تنظیموں نے سی ے اے کی مخالفت میں دھرنا دیا۔ صدر تنظیم انجم انعامدار نے مطالبہ کیا کہ حکومت مہاراشٹرا کو مقننہ کا اسپیشل سیشن طلب کرتے ہوئے سی اے اے اور این ار سی کی مخالفت میں قرارداد منظور کرے۔ لدیدہ فرزانہ جو جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں سی ے اے کے خلاف اسٹوڈنٹس کے احتجاج کی شناخت بن چکی ہیں، انھوں نے شہر میں مجمع سے کہا کہ وہ ان تمام کو سلیوٹ کرتی ہیں جو سی ے اے کی ’’ظالمانہ دفعات‘‘ کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ وہ گرلز اسلامک آرگنائزیشن کے زیراہتمام کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ قانون ہندوستانی دستور کی روح کے مغائر ہے۔ یہ مسلم برادری کے کارہائے نمایاں کو ماند کرتا ہے۔ انھوں نے مطالبہ بھی کیا کہ اترپردیش میں قید کئے گئے مخالف سی اے اے احتجاجوں کو فوری رہا کیا جائے۔ فرزانہ نے کہا کہ سی اے اے اس ملک میں کوئی پہلا ظالمانہ قانون نہیں ہے اور بعض قوانین کے حوالے دیئے جیسے (موجودہ طور پر منسوخ شدہ) قانون انسداد دہشت گردانہ اور تخریبی سرگرمیاں (ٹاڈا) اور قانون انسداد غیرسماجی سرگرمیاں، وغیرہ۔