پون کھیرا کو تلنگانہ ہائی کورٹ سے راحت، ایک ہفتہ کی عبوری ضمانت

   

جسٹس کے سوجنا کا فیصلہ، آسام کی عدالت سے رجوع ہونے کی مہلت
حیدرآباد ۔10۔ اپریل (سیاست نیوز) آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ترجمان پون کھیرا کو تلنگانہ ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی جب عدالت نے انہیں ایک ہفتہ کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرتے ہوئے آسام کی عدالت سے رجوع ہونے کا موقع فراہم کیا۔ جسٹس کے سوجنا نے آج اپنا فیصلہ سنایا جو کل بحث کے بعد محفوظ کردیا گیا تھا۔ جسٹس سوجنا نے فیصلہ میں کہا کہ درخواست گزار کو متعلقہ عدالت سے رجوع ہونے کے لئے ایک ہفتہ کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جاتی ہے۔ چیف منسٹر آسام ہیمنت بسوا سرما کی اہلیہ رینیکی بھویاں سرما نے پون کھیرا کے خلاف شکایت درج کرائی جس کے بعد آسام کی پولیس انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ پون کھیرا کی جانب سے ابھیشک منو سنگھوی نے پیروی کی ۔ آسام کے ایڈوکیٹ جنرل دیواجیت سائیکیا نے حیدرآباد میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کی پیشکشی کو چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ پون کھیرا نئی دہلی میں رہتے ہیں اور انہوں نے آسام کی عدالت سے رجوع ہونے کے بجائے تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کی معقول وجہ بیان نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی میڈیکل ایمرجنسی نہیں ہے ، لہذا پون کھیرا ملک کے کسی بھی حصہ سے آسام کی عدالت میں ضمانت کی درخواست پیش کرسکتے ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ پون کھیرا نئی دہلی میں قیام کرتے ہیں اور وہ گرفتاری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ابھیشک منو سنگھوی نے کہا کہ پون کھیرا کے خلاف مقدمہ سیاسی انتقامی کارروائی ہے۔ واضح رہے کہ پون کھیرا نے آسام کے چیف منسٹر کی اہلیہ کے پاس تین ممالک کے پاسپورٹس کی موجودگی کا الزام عائد کیا۔ آسام پولیس نے نئی دہلی میں پون کھیرا کی قیامگاہ کی تلاشی لی لیکن وہ حیدرآباد منتقل ہوچکے تھے۔ ہائی کورٹ سے عبوری راحت کے بعد اندرون ایک ہفتہ پون کھیرا کو آسام کی عدالت سے رجوع ہونا پڑے گا۔1/k/m/b