پوٹن کا عنقریب ترکیہ کا دورہ

   

ماسکو : ترکی نہ صرف روس کا دوست ہے بلکہ یہ یوکرین کی حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ترکی کئی معاملات میں ان دونوں ملکوں کے مابین ثالثی کا کردار بھی ادا کر رہا ہے اور اسے ترکی کی سفارتی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔ روسی نیوز ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق صدر ولادیمیر پوٹن اور ترک صدر رجب طیب اردغان نے اتفاق کیا ہے کہ روسی قائد جلد ہی ترکی کا دورہ کریں گے۔ گزشتہ برس فروری میں یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد صدر پوٹن کا ناٹو کے کسی رکن ملک کا یہ پہلا دورہ ہو گا۔ یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے صدر پوٹن نے شاذ و نادر ہی روس سے باہر سفر کیا ہے۔ انٹرفیکس نے کریملن کے خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے، یہ دعوت ترک صدر کی طرف سے دی گئی ہے۔ پوٹن اور اردغان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ دورہ مستقبل قریب میں ہوگا لیکن ہم نے ابھی تک کسی مخصوص دن یا مخصوص تاریخ کے بارے میں بات نہیں کی۔ ترکی نے روس پر اقتصادی پابندیاں لگانے میں اپنے مغربی اتحادیوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن اس نے یوکرین کو ہتھیار بھی فراہم کیے ہیں اور روس سے یوکرین کی خودمختاری کا احترام کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔ انقرہ نے حال ہی میں قیدیوں کے تبادلے میں بھی مدد فراہم کی تھی اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر جولائی 2022 میں بحیرہ اسود کے راستے یوکرینی بندرگاہوں سے اناج کی محفوظ برآمد کے ایک معاہدہ میں بھی ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔