پوپ فرانسس کو مختلف مذاہب کے رہنماؤں کا خراج ملیالم نیوز پیپر دیپکا کے زیر اہتمام تعزیتی اجلاس

   

نئی دہلی:پوپ فرانسس جان دیال کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے کہاکہ ان کی زندگی امن کے پیامبر کے طور پر رہی ہے اور وہ ہمیشہ دنیا کو امن کا پیغام دیتے رہے ۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں ملیالم نیوز پیپر دیپکا کے زیر اہتمام منعقدہ تعزیتی اجلاس اور ایوارڈ تقریب میں کہی۔مقررین میں وزیر مملکت جارج کورین، آرچ بشپ انل کوٹو، رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش اور مختلف مذاہب کے نمائندے شامل تھے ۔مقررین نے کہا کہ وہ شان و شوکت کے بجائے عاجزی کو ترجیح دینے کیلئے پرعزم تھے ۔ انھوں نے پوپ کی لیموزین کے بجائے دیگر کارڈینلز کو لے جانے والی بس میں سفر کرنے کو ترجیح دی ۔انہوں نے ایک ارب 20 کروڑ افراد کیلئے ایک اخلاقی معیار مقرر کیا۔ سادگی ان کی زندگی کا خاصہ تھی۔ پوپ فرانسس نے اپوسٹولک محل میں رہنے کے بجائے ویٹیکن کے ایک معمولی گیسٹ ہاؤس میں رہنے کا انتخاب کیا۔انہوں نے پاپائیت کی بہت سی رسموں کو مسترد کر دیا اور زیادہ قابل رسائی، ہینڈ آن لیڈر شپ اسٹائل کی طرف ایک تبدیلی کی نشاندہی کی۔وہ بدعنوانی کے سخت خلاف تھے ۔ پوپ فرانسس نے ویٹیکن کے اندر مالی بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے فوری کارروائی کی۔ انھوں نے چرچ کی انتظامیہ کو بھی دوبارہ منظم کیا ‘بیوروکریسی کو کم کیا اور اسے مزید شفاف بنایا۔ ان کے سب سے اہم چیلنجوں میں سے ایک چرچ کے بچوں کے جنسی استحصال کے اسکینڈلز کو حل کرنا تھا۔ انھوں نے بدسلوکی کو چھپانے کے الزام میں بشپس کو ہٹا دیا اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ویٹیکن کمیشن بنایا۔