نئی دہلی 23 اپریل : (ایجنسیز) وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ سے متعلق خبروں کو مسترد کیا اور واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ وزارت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان میں کہا کہ ایسی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب ایک مالیاتی ادارے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 25 سے 28 روپے فی لیٹر اضافہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں عالمی خام تیل کی قیمت تقریباً 120 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔وزارت نے ان خبروں کو عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے ہمیشہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے باوجود شہریوں کو راحت پہنچانے اقدامات کیے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں گزشتہ چار برسوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ادھر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد دیکھا گیا، جس کے جواب میں تہران نے سخت ردعمل دیا ۔ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز بند ہونے جیسی صورتحال پیدا ہوئی، جو دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق جنگی صورتحال کے بعد خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 119 ڈالر تک جا پہنچی، جبکہ بعد ازاں کچھ کمی دیکھنے میں آئی۔ تازہ کشیدگی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 103 سے 106 ڈالر فی بیرل کے درمیان برقرار ہے۔باوجود اس کے کہ عالمی خام تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم ہیں۔ قومی دارالحکومت نئی دہلی میں پٹرول کی قیمت 94.77 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 87.67 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔