شہر میں پٹرول فی لیٹر 100روپئے تک پہنچ سکتا ہے
حیدرآباد۔ حیدرآباد میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ ہفتہ کے دن پٹرول و ڈیزل کی ریکارڈ قیمتیں درج کی گئیں۔ انٹر نیشنل مارکٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ اور ڈالر کے مقابلہ روپئے کی قدر میں کمی کے باعث تیل کی کمپنیوں نے قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔ قیمتوں میں اضافہ سے اگرچہ پٹرول اور ڈیزل کی فروخت میں کوئی کمی دکھائی نہیں دی تاہم عوام نے مسلسل اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ روز مرہ کی مصروفیات اور ضروریات کو قیمتوں میں اضافہ کے سبب ترک نہیں کیا جاسکتا۔ حیدرآباد میں یکم جنوری کو پٹرول فی لیٹر 87.06 روپئے تھا جو ہفتہ 23 جنوری کو 89.15 روپئے فی لیٹر ہوگیا۔ اگر اضافہ کا سلسلہ جاری رہا تو آئندہ چند ہفتوں میں پٹرول کی قیمت 100 روپئے تک پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ڈیزل کی قیمت یکم جنوری کو فی لیٹر 80.60 روپئے ریکارڈ کی گئی تھی جو 23 جنوری کو بڑھ کر 82.80 روپئے ہوچکی ہے۔ 23 دنوں میں 2روپئے 60 پیسے کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ کورونا وباء اور لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں پہلے ہی عوام مختلف مسائل کا شکار ہیں ایسے میں فیول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ ٹرانسپورٹیشن چارجس میں اضافہ کا بہانہ بناکر تاجرین نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔