پٹھان تنازعہ ، آسام میں اشتعال انگیز بیان پر نوجوان زیر حراست

   

گوہاٹی:آسام کے درنگ ضلع سے ایک شخص کو چہارشنبہ کے روز بالی ووڈ فلم پٹھان کے سلسلے میں اشتعال انگیز بیان دینے کے الزام میں حراست میں لیا گیا، پولیس نے بتایا۔ جس شخص کی شناخت مفید الاسلام کے نام سے ہوئی ہے اس نے شاہ رخ خان کی تازہ ترین ریلیز کے لیے کم ازکم 120 ٹکٹ خریدے۔ وہ ضلع کے دھولا علاقے میں رہتا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے درنگ ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ پرسنتا سائکیا نے کہا، نوجوان نے پٹھان فلم کے تقریباً 120 ٹکٹ خریدے۔ اس کے بعد، وہ کچھ قابل اعتراض باتیں کہہ رہا تھا، دوسروں کو چیلنج کر رہا تھا، اور اس سے علاقے میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا مل سکتی تھی۔ پولیس کے مطابق، اسلام نے بجرنگ دل اور دیگر دائیں بازوکی تنظیموں کو نشانہ بنایا جنہوں نے اس سے قبل شاہ رخ خان کی فلم کی ریلیز پر اعتراض کیا تھا۔ یہ شخص نارتھ ایسٹ مینارٹیز اسٹوڈنٹس یونین (این ای ایم ایس یو) کا لیڈر ہے۔

سائکیا نے مزید کہا ہم نے اسے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے حراست میں لیا اور دفعہ 107 آئی پی سی کے تحت مقدمہ درج کیا۔ بعد میں اسے گھر جانے کی اجازت دی گئی۔ ہم اس پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دریں اثنا آسام کے رنگیا قصبے کے ایک اور نوجوان نے خان کی فلم پٹھان کے لیے 192 ٹکٹ خریدے ہیں۔ یہ شخص جس کی شناخت فاروق خان کے نام سے ہوئی ہے، رنگیا کے کنڈوکونا علاقہ کا رہنے والا ہے۔ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ شاہ رخ خان کون ہے۔ رپورٹرز نے سرما سے سوال کیا کہ بجرنگ دل کے کارکنوں نے گوہاٹی کے ایک سنیما ہال میں پٹھان فلم کے پوسٹر پھاڑے اور جلائے۔ تاہم ایک دن بعد، چیف منسٹر نے خود بتایا کہ شاہ رخ خان نے انہیں آدھی رات کے بعد خیریت سے فون کیا تھا اور آسام میں فلم کی کامیاب ریلیزکو یقینی بنانے میں ان کی مدد کی درخواست کی تھی۔