ممنوعہ مصنوعی رائپز کے استعمال پر اسٹاکس ضبط، ایڈوائزری جاری
حیدرآباد ۔ 27 اپریل (سیاست نیوز) کتہ پیٹ مارکٹ کے قریب یتھائی لین سلیولوز ریاپرس سے مصنوعی طور پر پکائے گئے 550 کیلو گرام پھلوں کو ضبط اور تلف کرنے کے بعد عہدیداروں نے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ اتھاریٹی آف انڈیا کے مطابق پھلوں کو مصنوعی طور پر پکانے کیلئے صحیح پریکٹیس پر ایک ایڈوائزری جاری کی۔ ٹاسک فورس نے جمعرات کو تین ونیڈرس کو نوٹسیں بھی جاری کی جن کے اسٹاکس کو سوخت کرلیا گیا۔ حکومت تلنگانہ کے فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسیٹائی لین گیس جسے عام طور پر کاربائیڈگیس کہا جاتا ہے سے پھلوں کو پکانا ممنوع ہے۔ اگر یہ پائے گئے تو ضبط کرلیا جائے گا اور وینڈرس پر دو لاکھ روپئے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس کیلئے ایک متبادل کے طور پر میتھیفان کی پاوڈر کی شکل میں سفارش کی گئی ہے۔ ایڈوائزری میں کہا گیا کہ اسے 60-40 مائیکرون سلیولوز ممبرین پیپر یا اس کے مماثل میں چھوٹے سائچٹس کی شکل میں پیاک کرنا ہوگا۔ پھلوں کو پکانے کے اس طریقہ کو جہاں رائپننگ چیمبرس دستیاب نہ ہوں یا ان ۔ ٹرانزٹ رائپننگ کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے، جی ایچ ایم سی زون میں کسٹمرس کو اس سلسلہ میں کوئی شکایت ہو تو وہ 040-21111111 پر شکایت درج کرواسکتے ہیں۔