وقف بورڈ حکام کی جانب سے اراضی اقلیتی اقامتی اسکول سوسائیٹی کے حوالے کردی گئی
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔17جولائی۔ پہاڑی شریف کے قریب فروٹ مارکٹ کے منصوبہ پر عمل آوری نہیں ہوگی اور نہ ہی وہ اراضی تاجرین میوہ جات کے حوالہ کی جائے گی۔چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے وزیر داخلہ جناب محمد محمود علی اور وزیر زراعت مسٹر نرنجن ریڈی کو فروٹ مارکٹ کیلئے نشاندہی کردہ موقوفہ اراضی کا جائزہ لینے اور فروٹ مارکٹ کے قیام کو منظوری کے باوجود فروٹ مارکٹ کے قیام میں رکاوٹیں پیدا ہونے لگی ہیں کیونکہ یہ اراضی وقف بورڈ عہدیداروں نے تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائیٹی کے حوالہ کردی ہے۔ بالاپو ر میں فروٹ مارکٹ کیلئے نشاندہی کردہ 16ایکڑ23 گنٹہ اوقافی اراضی متعدد نمائندگیوں کے باوجود وقف بورڈ سے ہول سیل فروٹ تاجرین کی بجائے تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں کیلئے حوالہ کرنے سے تاجرین کو پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑیگا ۔ کتہ پیٹ فروٹ مارکٹ کی شہر سے باہر منتقلی کے فیصلے سے تاجرین میوہ کو مسائل کی وجہ سے فروٹ مرچنٹ اسوسیشن اور تاجرین نے شہر سے قریب کسی جگہ جگہ کی فراہمی کی اپیل کرکے نمائندگی کی تھی جس پر قائد مقننہ مجلس جناب اکبر الدین اویسی نے وقف بورڈ کو مکتوب روانہ کرکے پہاڑی شریف کے قریب واقع بالا پور علاقہ میں موجود اوقافی اراضی کی نشاندہی کرتے ہوئے ان تاجرین فروٹ کو کرایہ پر دینے کے لئے نمائندگی کی تھی ۔ تاجرین فروٹ نے منتخبہ عوامی نمائندوں کے ہمراہ اس اراضی کا دورہ کرتے ہوئے بالاپور میں اپنی مارکٹ کے قیام پر آمادگی ظاہر کی جس پر منتخبہ عوامی نمائندوں نے چیف ایکزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کومکتوب روانہ کرتے ہوئے مارکٹ کی شہر سے دور منتقلی کے سبب پریشان حال مسلم تاجرین میوہ جات کو حضرت بابا شرف الدین سہروردیؒ کے تحت موجود اس موقوفہ اراضی کو ان کے حوالہ کرنے کی خواہش کی تھی اور اس نمائندگی پر وقف بورڈ کے عہدیداروں کی جانب سے مثبت ردعمل ظاہر کیا گیا تھا اراضی کی حوالگی میں ہونے والی تاخیر کو دیکھتے ہوئے تاجرین میوہ جات نے نئے بورڈ کی تشکیل کے بعد صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان سے ملاقات کرتے ہوئے اکبرالدین اویسی کی جانب سے کی گئی نمائندگی اورتاجرین کے مسائل کے متعلق واقف کروایا تھا جس پر صدرنشین وقف بورڈ نے اس سلسلہ میں جلد از جلد کاروائی کاتیقن دیاتھالیکن ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وقف بورڈ کی عدم موجودگی کے دور میں عہدیدارو ںکی جانب سے تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائیٹی کو یہ دیگر اراضیات کے ساتھ یہ اراضی بھی حوالہ کردی گئی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے اقلیتی اقامتی اسکولوں کے حوالہ کی گئی جملہ 56.23 ایکڑ 6000گز اراضی میں یہ اراضی بھی شامل ہے جو کہ سالانہ 10ہزار روپئے فی ایکڑ کے کرایہ پر تلنگانہ مائینا ریٹیزریسڈینشل ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنس سوسائیٹی کے حوالہ کی گئی ہے۔