پہلگام حملے کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں کشمیری طلبہ کو نشانہ بنانے کے واقعات

   

سری نگر: جموں و کشمیر سے رکن پارلیمان اور نیشنل کانفرنس کے سرکردہ رہنما آغا روح اللہ مہدی نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ پہلگام حملے جیسے المناک واقعے کے بعد بجائے اس کے کہ حقیقی مجرموں کو تلاش کیا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ملک کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کو ہراساں کیا جارہا ہے ۔آغا روح اللہ نے سری نگر میں میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہیہ افسوسناک ہے کہ ایک جانب وادی میں سوگ اور صدمے کی فضا ہے اور دوسری جانب ہمارے نوجوان جو ملککے مختلف حصوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں انہیں بدنام اور ہراساں کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور یقینی بنائیں کہ کشمیری طلبہ کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔ان نوجوانوں کا پہلگام سانحے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ تو ملک کے نظام تعلیم اور ترقی میں اپنا حصہ ادا کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں سے ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں کشمیری طلبہ کو حملے ، بائیکاٹ یا امتیازی سلوک کا سامنا ہے ۔آغا روح اللہ مہدی نے تمام ریاستی حکومتوں اور تعلیمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیری طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی طرح کی انتقامی کارروائی یا امتیاز سے گریز کریں۔ادھر چیف منسٹر عمر عبداللہ اور پی ڈی پی لیڈر محبوبہ مفتی نے بھی کشمیر ی طلباء اور تاجرین کو دھمکیاں ملنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔چیف منسٹر نے مرکزسے ا مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کے بجائے کچھ لوگ نفرت کا ماحول بنا رہے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے امیت شاہ سے بات کرکے کشمیریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔